غزل
ग़ैर ने हम को ज़ब्ह किया नय ताक़त है नय यारा है
ग़ैर ने हम को ज़ब्ह किया नय ताक़त है नय यारा है
یہ غزل محبوب کے ہاتھوں کیے گئے جذباتی و جسمانی زخموں کا بیان ہے۔ شاعر lament کرتے ہیں کہ دشمن نے انہیں مار ڈالا ہے، اور اب نہ کوئی طاقت باقی ہے اور نہ کوئی یار۔ وہ اپنے عشق اور زندگی کی نازکی کو بیان کرتے ہوئے، اپنے محبوب کے بغیر زندگی کے دکھ اور تنہائی کو پیش کرتے ہیں۔
نغمہ سنیں
1
ग़ैर ने हम को ज़ब्ह किया नय ताक़त है नय यारा है
इस कुत्ते ने कर के दिलेरी सैद-ए-हरम को मारा है
غیر نے ہم کو ذبح کیا نے طاقت ہے نے یارا ہے
اس کتے نے کر کے دلیری صید حرم کو مارا ہے
گَر نے ہم کو زَبح کیا نے طاقت ہے نے یارا ہے۔ / اِس کُتّے نے کر کے دلیری سید-اے-حرم کو مارا ہے۔
2
बाग़ को तुझ बिन अपने भायं आतिश दी है बहाराँ ने
हर ग़ुंचा अख़गर है हम को हर गुल एक अँगारा है
باغ کو تجھ بن اپنے بھائیں آتش دی ہے بہاراں نے
ہر غنچہ اخگر ہے ہم کو ہر گل ایک انگارا ہے
بہار نے تجھ کے بغیر باغ کو آگ لگا دی ہے، ہر گچھا ایک چراغ اور ہر پھول ایک چمکتا انگارہ ہے۔
3
जब तुझ बिन लगता है तड़पने जाए है निकला हाथों से
है जो गिरह सीने में उस को दिल कहिए या पारा है
جب تجھ بن لگتا ہے تڑپنے جائے ہے نکلا ہاتھوں سے
ہے جو گرہ سینے میں اس کو دل کہیے یا پارہ ہے
جب تجھ سے محروم تڑپنے نکلتا ہوں، تو دیکھتا ہوں کہ جو چیز میرے ہاتھوں سے گرا، یا جو گُتھی سینے میں ہے—چاہے اسے دل کہیں یا زہر—وہ چلی گئی ہے۔
4
राह-ए-हदीस जो टक भी निकले कौन सिखाए हम को फिर
रू-ए-सुख़न पर किस को दे वो शोख़ बड़ा अय्यारा है
راہ حدیث جو ٹک بھی نکلے کون سکھائے ہم کو پھر
روئے سخن پر کس کو دے وہ شوخ بڑا عیارہ ہے
सूक्ष्म साहित्य کے راستے پر، اگر دھاگا ٹوٹ جائے تو ہمیں پھر کون سکھائے گا؟ شاعری کے دل پر، وہ چمکیلا اور شرارتی پیار کس کو دیا جاتا ہے؟
5
काम उस का है ख़ूँ-अफ़शानी हर-दम तेरी फ़ुर्क़त में
चश्म को मेरी आ कर देख अब लोहू का फ़व्वारा है
کام اس کا ہے خوں افشانی ہر دم تیری فرقت میں
چشم کو میری آ کر دیکھ اب لوہو کا فوارہ ہے
کام اُس کا ہے کہ ہر دم تیری فراق میں خُون بہانا؛ میری آنکھوں کو دیکھ، یہ اب خون کا فوارہ ہے۔
6
बाल खुले वो शब को शायद बिस्तर नाज़ पे सोता था
आई नसीम-ए-सुब्ह जो ईधर फैला 'अम्बर सारा है
بال کھلے وہ شب کو شاید بستر ناز پہ سوتا تھا
آئی نسیم صبح جو ایدھر پھیلا عنبر سارا ہے
بال کھلے وہ شب کو شاید بستر ناز پہ سوتا تھا، آئی نسیماۓ صبح جو ادھر پھیلا 'عنبر سارا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ رات کے وقت شاید کھلے بال اور بستر پر سوتا تھا، مگر جب صبح کی ہوا آئی تو پورا آسمان یہاں پھیل گیا۔
7
किस दिन दामन खींच के उन ने यार से अपना काम लिया
मुद्दत गुज़री देखते हम को 'मीर' भी इक नाकारा है
کس دن دامن کھینچ کے ان نے یار سے اپنا کام لیا
مدت گزری دیکھتے ہم کو میرؔ بھی اک ناکارہ ہے
کس دن دامن کھینچ کے اُن نے یار سے اپنا کام لیا، مُدّت گزرے دیکھتے ہم کو، 'میر' بھی اک ناکارہ ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
