غزل
क़यामत हैं ये चस्पाँ जामे वाले
क़यामत हैं ये चस्पाँ जामे वाले
یہ غزل ایک ایسے محبوب کی بات کرتی ہے جس کا حسن قیاومت جیسا ہے، اور جو اپنے عشق میں اتنا مست کر دیتا ہے کہ دل چھین لیتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس مصیبت سے صرف خدا ہی نکال سکتا ہے، اور محبوب سے التجا کرتا ہے کہ وہ دور سے ہی سہی، کبھی تو ہمیں بلا لے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
क़यामत हैं ये चस्पाँ जामे वाले
गुलों ने जिन की ख़ातिर ख़िरक़े डाले
یہ محبوبوں کے ایسے نشہ آور اور شدید جادو ہیں، جن کی خاطر گلوں نے اپنے لباس اوڑھے۔
2
वो काला चोर है ख़ाल-ए-रुख़-ए-यार
कि सौ आँखों में दिल हो तो चुरा ले
وہ کالا چور ہے، محبوب کا چہرہ، جو سو آنکھوں میں دل ہو تو اسے چرا لے۔
3
नहीं उठता दिल-ए-महज़ूँ का मातम
ख़ुदा ही इस मुसीबत से निकाले
دلِ محزون کا ماتم نہیں اٹھتا، خدا ہی اس مصیبت سے نکالے گا۔
4
कहाँ तक दूर बैठे बैठे कहिए
कभू तो पास हम को भी बुला ले
کہاں تک دور بیٹھے بیٹھے کہیے، کبوہ تو پاس ہم کو بھی بلا لے ۔ اس کا لغوی مطلب ہے کہ آپ بتا دیں کہ آپ کتنی دور بیٹھے ہیں، اور شاید آپ پاس بیٹھے ہم سب کو بھی کبھی بلا لیں۔
5
दिला बाज़ी न कर उन गेसुओं से
नहीं आसाँ खिलाने साँप काले
ان حسینوں سے دل کا کھیل نہ کرنا، کالے سانپ کو کھلانا آسان نہیں۔
6
तपिश ने दिल जिगर की मार डाला
बग़ल में दुश्मन अपने हम ने पाले
اس شعر کا مطلب ہے کہ شدید گرمی نے دل اور جگر کو مار ڈالا، اور بغل میں دشمن اپنے ہم نے پالے۔
7
न महके बू-ए-गुल ऐ काश यक-चंद
अभी ज़ख़्म-ए-जिगर सारे हैं आले
اے کاش، پھولوں کی خوشبو نہیں مہکے، جب میرے دل کے زخم ابھی بھی سارے کھلے ہیں۔
8
किसे क़ैद-ए-क़फ़स में याद गुल की
पड़े हैं अब तो जीने ही के लाले
کسے قیدِ قفس میں یاد گل کی پڑے ہیں اب تو جینے ہی کے لالے۔
9
सताया 'मीर' ग़म-कश को किन्हों ने
कि फिर अब अर्श तक जाते हैं नाले
کس نے 'میر' غمگین کو اتنا ستایا کہ اب تو نالے بھی عرش تک جاتے ہیں؟
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
