غزل

क़यामत हैं ये चस्पाँ जामे वाले

क़यामत हैं ये चस्पाँ जामे वाले
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل ایک ایسے محبوب کی بات کرتی ہے جس کا حسن قیاومت جیسا ہے، اور جو اپنے عشق میں اتنا مست کر دیتا ہے کہ دل چھین لیتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس مصیبت سے صرف خدا ہی نکال سکتا ہے، اور محبوب سے التجا کرتا ہے کہ وہ دور سے ہی سہی، کبھی تو ہمیں بلا لے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
क़यामत हैं ये चस्पाँ जामे वाले गुलों ने जिन की ख़ातिर ख़िरक़े डाले
قیامت ہیں یہ چسپاں جامے والے گلوں نے جن کی خاطر خرقے ڈالے
یہ محبوبوں کے ایسے نشہ آور اور شدید جادو ہیں، جن کی خاطر گلوں نے اپنے لباس اوڑھے۔
2
वो काला चोर है ख़ाल-ए-रुख़-ए-यार कि सौ आँखों में दिल हो तो चुरा ले
وہ کالا چور ہے خال رخ یار کہ سو آنکھوں میں دل ہو تو چرا لے
وہ کالا چور ہے، محبوب کا چہرہ، جو سو آنکھوں میں دل ہو تو اسے چرا لے۔
3
नहीं उठता दिल-ए-महज़ूँ का मातम ख़ुदा ही इस मुसीबत से निकाले
نہیں اٹھتا دل محزوں کا ماتم خدا ہی اس مصیبت سے نکالے
دلِ محزون کا ماتم نہیں اٹھتا، خدا ہی اس مصیبت سے نکالے گا۔
4
कहाँ तक दूर बैठे बैठे कहिए कभू तो पास हम को भी बुला ले
کہاں تک دور بیٹھے بیٹھے کہیے کبھو تو پاس ہم کو بھی بلا لے
کہاں تک دور بیٹھے بیٹھے کہیے، کبوہ تو پاس ہم کو بھی بلا لے ۔ اس کا لغوی مطلب ہے کہ آپ بتا دیں کہ آپ کتنی دور بیٹھے ہیں، اور شاید آپ پاس بیٹھے ہم سب کو بھی کبھی بلا لیں۔
5
दिला बाज़ी न कर उन गेसुओं से नहीं आसाँ खिलाने साँप काले
دلا بازی نہ کر ان گیسوؤں سے نہیں آساں کھلانے سانپ کالے
ان حسینوں سے دل کا کھیل نہ کرنا، کالے سانپ کو کھلانا آسان نہیں۔
6
तपिश ने दिल जिगर की मार डाला बग़ल में दुश्मन अपने हम ने पाले
تپش نے دل جگر کی مار ڈالا بغل میں دشمن اپنے ہم نے پالے
اس شعر کا مطلب ہے کہ شدید گرمی نے دل اور جگر کو مار ڈالا، اور بغل میں دشمن اپنے ہم نے پالے۔
7
न महके बू-ए-गुल ऐ काश यक-चंद अभी ज़ख़्म-ए-जिगर सारे हैं आले
نہ مہکے بوئے گل اے کاش یک چند ابھی زخم جگر سارے ہیں آلے
اے کاش، پھولوں کی خوشبو نہیں مہکے، جب میرے دل کے زخم ابھی بھی سارے کھلے ہیں۔
8
किसे क़ैद-ए-क़फ़स में याद गुल की पड़े हैं अब तो जीने ही के लाले
کسے قید قفس میں یاد گل کی پڑے ہیں اب تو جینے ہی کے لالے
کسے قیدِ قفس میں یاد گل کی پڑے ہیں اب تو جینے ہی کے لالے۔
9
सताया 'मीर' ग़म-कश को किन्हों ने कि फिर अब अर्श तक जाते हैं नाले
ستایا میرؔ غم کش کو کنھوں نے کہ پھر اب عرش تک جاتے ہیں نالے
کس نے 'میر' غمگین کو اتنا ستایا کہ اب تو نالے بھی عرش تک جاتے ہیں؟
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.