غزل
गुल-ओ-बुलबुल बहार में देखा
गुल-ओ-बुलबुल बहार में देखा
یہ غزل محبت اور زندگی کے حسن کا ایک شاعیانہ سفر ہے، جس میں شاعر نے محبوب کی جھلک ہر چیز میں دیکھی ہے۔ یہ بیان کرتا ہے کہ کیسے ہر سادہ تجربہ، چاہے وہ پھولوں کا کھلنا ہو یا انتظار کا درد، ایک گہرے اور قیمتی دیدار کی یاد دلاتا ہے۔
نغمہ سنیں
1
गुल-ओ-बुलबुल बहार में देखा
एक तुझ को हज़ार में देखा
گل و بلبل بہار میں دیکھا
ایک تجھ کو ہزار میں دیکھا
بہار میں گل اور بلبل کے ساتھ میں نے تمہیں دیکھا، مگر تمہیں تو مجھے ہزار میں بھی دکھائی دیا।
2
जल गया दिल सफ़ेद हैं आँखें
ये तो कुछ इंतिज़ार में देखा
جل گیا دل سفید ہیں آنکھیں
یہ تو کچھ انتظار میں دیکھا
میرا دل جل گیا ہے اور آنکھیں سفید ہیں، یہ تو کچھ انتظار میں دیکھا۔
3
जैसा मुज़्तर था ज़िंदगी में दिल
वोहीं मैं ने क़रार में देखा
جیسا مضطر تھا زندگی میں دل
ووہیں میں نے قرار میں دیکھا
جیسا دل زندگی میں بکھرا تھا، میں نے اسے اپنے ٹھہراؤ میں پایا۔
4
आबले का भी होना दामन-गीर
तेरे कूचे के ख़ार में देखा
آبلے کا بھی ہونا دامن گیر
تیرے کوچے کے خار میں دیکھا
اس شعر کا مطلب ہے کہ آبلے کو بھی کوئی قیمت (دامن-گیر) ہونی چاہیے، جو بات شاعر نے تیرے کوچے کے خار میں دیکھی۔
5
तीरा आलम हुआ ये रोज़-ए-सियाह
अपने दिल के ग़ुबार में देखा
تیرہ عالم ہوا یہ روز سیاہ
اپنے دل کے غبار میں دیکھا
تیرا عالم ہوا یہ روزِ سیاہ، اپنے دل کے غبار میں دیکھا۔
معنی: یہ تیری دنیا تھی جو اس سیاہ دن پر، میں نے اپنے دل کی دھول میں دیکھا۔
6
ज़ब्ह कर मैं कहा था मरता हूँ
दम नहीं मुझ शिकार में देखा
ذبح کر میں کہا تھا مرتا ہوں
دم نہیں مجھ شکار میں دیکھا
زبح کر میں کہا تھا مرتا ہوں، مگر شکار میں کوئی موت نہیں دیکھی۔
7
जिन बलाओं को 'मीर' सुनते थे
उन को इस रोज़गार में देखा
جن بلاؤں کو میرؔ سنتے تھے
ان کو اس روزگار میں دیکھا
جن بلاؤں کو شاعر 'میر' سنتے تھے، اُن کو اس روزگار میں دیکھا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
