غزل
आगे हमारे अहद से वहशत को जा न थी
आगे हमारे अहद से वहशत को जा न थी
یہ غزل جدائی اور تنہائی کے گہرے دکھ کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ زندگی میں جو بھی تبدیلی آئی ہے، وہ اچانک اور غیر متوقع ہے، گویا کسی نے بغیر بتائے ساتھ چھوڑ دیا ہو۔ یہ محبت کی فراق کے دکھ اور تقدیر کے ظالمانہ کھیل کو پیش کرتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
आगे हमारे अहद से वहशत को जा न थी
दीवानगी कसो की भी ज़ंजीर-ए-पा न थी
آگے ہمارے عہد سے وحشت کو جا نہ تھی
دیوانگی کسو کی بھی زنجیر پا نہ تھی
میرے آگے، وہ وحشت اس کے عہد سے نا جان تھی، اور دیوانگی بھی کس کی زنجیرِ پنہ تھی।
2
बेगाना सा लगे है चमन अब ख़िज़ाँ में हाए
ऐसी गई बहार मगर आश्ना न थी
بیگانہ سا لگے ہے چمن اب خزاں میں ہائے
ایسی گئی بہار مگر آشنا نہ تھی
چمن اب خزاں میں بیگانہ سا لگتا ہے، کیونکہ جو بہار گئی وہ اسے دیکھنے کے لیے کسی آشنا کی موجودگی سے محروم تھی۔
3
कब था ये शोर-ए-नौहा तिरा इश्क़ जब न था
दिल था हमारा आगे तू मातम-सरा न थी
کب تھا یہ شور نوحہ ترا عشق جب نہ تھا
دل تھا ہمارا آگے تو ماتم سرا نہ تھی
یہ شورِ نوحہ کب تھا تیرا، عشق جب نہ تھا। دل تھا ہمارا آگے، تُو ماتم سرا نہ تھی۔
4
वो और कोई होगी सहर जब हुई क़ुबूल
शर्मिंदा-ए-असर तो हमारी दुआ न थी
وہ اور کوئی ہوگی سحر جب ہوئی قبول
شرمندۂ اثر تو ہماری دعا نہ تھی
جب صبح کو سچ مان لیا، تو اور کون ہو سکتا ہے۔ یہ ہماری دعا نہیں تھی کہ آپ اپنی کرم پر شرمندہ ہوں۔
5
आगे भी तेरे इश्क़ से खींचे थे दर्द-ओ-रंज
लेकिन हमारी जान पर ऐसी बला न थी
آگے بھی تیرے عشق سے کھینچے تھے درد و رنج
لیکن ہماری جان پر ایسی بلا نہ تھی
اس سے پہلے بھی تیرے عشق سے درد و رنج کھینچے تھے، لیکن ہماری جان پر ایسی کوئی بلا نہیں تھی۔
6
देखे दयार-ए-हुस्न के में कारवाँ बहुत
लेकिन कसो के पास मता-ए-वफ़ा न थी
دیکھے دیار حسن کے میں کارواں بہت
لیکن کسو کے پاس متاع وفا نہ تھی
میں نے تمہاری حُسن کے دِیا میں بہت سے کارواں دیکھے، مگر کسی کے پاس وفا کا پیمانہ نہ تھا۔
7
आई परी सी पर्दा-ए-मीना से जाम तक
आँखों में तेरी दुख़्तर-ए-रज़ क्या हया न थी
آئی پری سی پردۂ مینا سے جام تک
آنکھوں میں تیری دختر رز کیا حیا نہ تھی
پری کی طرح، پردہِ مینا سے جام تک، تیری آنکھوں میں غم کا عاشق کیا حیا نہ تھی؟
8
इस वक़्त से क्या है मुझे तो चराग़-ए-वक़्फ़
मख़्लूक़ जब जहाँ में नसीम-ओ-सबा न थी
اس وقت سے کیا ہے مجھے تو چراغ وقف
مخلوق جب جہاں میں نسیم و صبا نہ تھی
اس وقت سے مجھے کیا، کیونکہ جب دنیا میں کوئی نسیم و صبا نہیں تھا، تب وقت کا دیا جلتا نہیں تھا۔
9
पज़मुर्दा इस क़दर हैं कि है शुबह हम को 'मीर'
तन में हमारे जान कभू थी भी या न थी
پژمردہ اس قدر ہیں کہ ہے شبہ ہم کو میرؔ
تن میں ہمارے جان کبھو تھی بھی یا نہ تھی
پزمردا کا نشہ اتنا ہے کہ مجھے شبہ ہے، اے میر، کہ یہ جان کبھی میرے تن میں تھی بھی یا نہیں।
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
