Sukhan AI
غزل

आगे हमारे अहद से वहशत को जा न थी

आगे हमारे अहद से वहशत को जा न थी
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل جدائی اور تنہائی کے گہرے دکھ کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ زندگی میں جو بھی تبدیلی آئی ہے، وہ اچانک اور غیر متوقع ہے، گویا کسی نے بغیر بتائے ساتھ چھوڑ دیا ہو۔ یہ محبت کی فراق کے دکھ اور تقدیر کے ظالمانہ کھیل کو پیش کرتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
आगे हमारे अहद से वहशत को जा थी दीवानगी कसो की भी ज़ंजीर-ए-पा थी
میرے آگے، وہ وحشت اس کے عہد سے نا جان تھی، اور دیوانگی بھی کس کی زنجیرِ پنہ تھی।
2
बेगाना सा लगे है चमन अब ख़िज़ाँ में हाए ऐसी गई बहार मगर आश्ना थी
چمن اب خزاں میں بیگانہ سا لگتا ہے، کیونکہ جو بہار گئی وہ اسے دیکھنے کے لیے کسی آشنا کی موجودگی سے محروم تھی۔
3
कब था ये शोर-ए-नौहा तिरा इश्क़ जब था दिल था हमारा आगे तू मातम-सरा थी
یہ شورِ نوحہ کب تھا تیرا، عشق جب نہ تھا। دل تھا ہمارا آگے، تُو ماتم سرا نہ تھی۔
4
वो और कोई होगी सहर जब हुई क़ुबूल शर्मिंदा-ए-असर तो हमारी दुआ थी
جب صبح کو سچ مان لیا، تو اور کون ہو سکتا ہے۔ یہ ہماری دعا نہیں تھی کہ آپ اپنی کرم پر شرمندہ ہوں۔
5
आगे भी तेरे इश्क़ से खींचे थे दर्द-ओ-रंज लेकिन हमारी जान पर ऐसी बला थी
اس سے پہلے بھی تیرے عشق سے درد و رنج کھینچے تھے، لیکن ہماری جان پر ایسی کوئی بلا نہیں تھی۔
6
देखे दयार-ए-हुस्न के में कारवाँ बहुत लेकिन कसो के पास मता-ए-वफ़ा थी
میں نے تمہاری حُسن کے دِیا میں بہت سے کارواں دیکھے، مگر کسی کے پاس وفا کا پیمانہ نہ تھا۔
7
आई परी सी पर्दा-ए-मीना से जाम तक आँखों में तेरी दुख़्तर-ए-रज़ क्या हया थी
پری کی طرح، پردہِ مینا سے جام تک، تیری آنکھوں میں غم کا عاشق کیا حیا نہ تھی؟
8
इस वक़्त से क्या है मुझे तो चराग़-ए-वक़्फ़ मख़्लूक़ जब जहाँ में नसीम-ओ-सबा थी
اس وقت سے مجھے کیا، کیونکہ جب دنیا میں کوئی نسیم و صبا نہیں تھا، تب وقت کا دیا جلتا نہیں تھا۔
9
पज़मुर्दा इस क़दर हैं कि है शुबह हम को 'मीर' तन में हमारे जान कभू थी भी या थी
پزمردا کا نشہ اتنا ہے کہ مجھے شبہ ہے، اے میر، کہ یہ جان کبھی میرے تن میں تھی بھی یا نہیں।
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

आगे हमारे अहद से वहशत को जा न थी | Sukhan AI