Sukhan AI
पज़मुर्दा इस क़दर हैं कि है शुबह हम को 'मीर'
तन में हमारे जान कभू थी भी या न थी

The intoxication is such that I doubt my own being, O Meer; / Whether my life was ever truly within this body or not.

میر تقی میر
معنی

پزمردا کا نشہ اتنا ہے کہ مجھے شبہ ہے، اے میر، کہ یہ جان کبھی میرے تن میں تھی بھی یا نہیں।

تشریح

پژمردہ اِس قدر ہیں کہ ہے شبہ ہم کو، میؔر؛ تن میں ہمارے جان کب تھی بھی یا نہ تھی ۔ یہ شعر ایک گہرے وجودی لبھدے کو بیان کرتا ہے، جہاں جذبات کی شدت انسان کو اپنے وجود پر سوال کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ میر تقی میر نے یہاں حقیقت اور فانی ہونے کے تصورات کو جوڑ دیا ہے۔ یہ ایک شدید بیگانگی کا احساس ہے، جو جسمانی وجود کی حقیقت پر ہی سوال اٹھا دیتا ہے۔

آڈیو

تلاوت
ہندی معنیIn app
انگریزی معنیIn app
ہندی تشریحIn app
انگریزی تشریحIn app
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.