غزل
ये चश्म आईना-दार-ए-रू थी कसू की
ये चश्म आईना-दार-ए-रू थी कसू की
یہ غزل بتاتی ہے کہ دیکھنے کا ہر پہلو، ہر نظر، اور ہر خواہش کسو کی تھی، گویا کسو کا وجود ہر لمحے میں شامل تھا۔ شاعر کو احساس ہوتا ہے کہ اس کی زندگی کے ہر گوشے میں، ہر جگہ کسو کا ہی اثر اور موجودگی تھی۔
نغمہ سنیں
1
ये चश्म आईना-दार-ए-रू थी कसू की
नज़र उस तरफ़ भी कभू थी कसू की
یہ چشم آئینہ دار رو تھی کسو کی
نظر اس طرف بھی کبھو تھی کسو کی
کہ کیا یہ چہرہ آئینے جیسا تھا، یا نظر بھی کبھی اس طرف تھی۔
2
सहर पा-ए-गुल बे-ख़ुदी हम को आई
कि उस सुस्त पैमाँ में बू थी कसू की
سحر پائے گل بے خودی ہم کو آئی
کہ اس سست پیماں میں بو تھی کسو کی
سحر پا-ئے-گل بے-خودی ہم کو آئی، / کہ اُس سست پیغام میں بو تھی قفس کی ۔
(مطلب: مجھے گل کی خوشبو کا سحر ملا، کہ اُس سست پیغام میں قفس کی بو تھی۔)
3
ये सर-गश्ता जब तक रहा इस चमन में
ब-रंग-ए-सबा जुस्तुजू थी कसू की
یہ سرگشتہ جب تک رہا اس چمن میں
برنگ صبا جستجو تھی کسو کی
یہ سرگشتہ جب تک اس چمن میں رہا، میں ہوا کے رنگ (رنگِ صبا) کی جستجو میں تھا۔
4
न ठहरी टुक इक जान बर-लब रसीदा
हमें मुद्दआ' गुफ़्तुगू थी कसू की
نہ ٹھہری ٹک اک جان بر لب رسیدہ
ہمیں مدعا گفتگو تھی کسو کی
ن ٹھہری ٹک اک جان بر لب رسیدا، یعنی وہ جان جو ٹھہر نہ سکی، وہ ہونٹوں پر نکتار کے قطرے جیسی تھی؛ اور ہمیں محبوب سے گفتگو کی بہت ضرورت تھی۔
5
जलाया शब इक शो'ला-ए-दिल ने हम को
कि उस तुंद सरकश में ख़ू थी कसू की
جلایا شب اک شعلۂ دل نے ہم کو
کہ اس تند سرکش میں خو تھی کسو کی
کسی دل کی شعلے نے ہمیں جلا دیا، کہ اس بے پروا میں جنوں کی آگ تھی۔
6
न थे तुझ से नाज़ुक मयानान-ए-गुलशन
बहुत तो कमर जैसे मू थी कसू की
نہ تھے تجھ سے نازک میانان گلشن
بہت تو کمر جیسے مو تھی کسو کی
نہ یہ تجھ سے ہے نازک مہک گلشن کی، نہ یہ کمر جیسی کسو کی।
7
दम-ए-मर्ग दुश्वार दी जान इन ने
मगर 'मीर' को आरज़ू थी कसू की
دم مرگ دشوار دی جان ان نے
مگر میرؔ کو آرزو تھی کسو کی
دَمِ مَرج دشوار دی جان ان نے، مگر 'میر' کو آرزو تھی کسو کی ۔ اس کا مطلب ہے کہ اس جان کے لیے موت کا سانس مشکل تھا، لیکن 'میر' کی خواہش قبر کا پیالہ تھا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
