غزل

जुज़ जुर्म-ए-इश्क़ कोई भी साबित किया गुनाह

जुज़ जुर्म-ए-इश्क़ कोई भी साबित किया गुनाह
میر تقی میر· Ghazal· 10 shers

یہ غزل عشق کے جرم کو کوئی جرم نہیں سمجھتی۔ شاعر بیان کرتے ہیں کہ محبوب کی ہجر میں دل کا درد اور یادیں اتنی گہری ہیں کہ وہ وصال کی شب میں بھی ایک طرح کے طلوعِ خورشید کی مانند محسوس ہوتی ہیں۔ اشعار میں وہ اپنی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ محبوب کی ایک نظر ہی دل میں ایک گہرا زخم چھوڑ جاتی ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
जुज़ जुर्म-ए-इश्क़ कोई भी साबित किया गुनाह नाहक़ हमारी जान ली अच्छे हो वाह वाह
جز جرم عشق کوئی بھی ثابت کیا گناہ ناحق ہماری جان لی اچھے ہو واہ واہ
جُز جرمِ عشق کوئی بھی ثابت کیا گناہ، ناحق ہماری جان لی اچھے ہو واہ واہ
2
अब कैसा चाक चाक हो दिल उस के हिज्र में गुथ्थवाँ तो लख़्त-ए-दिल से निकलती है मेरी आह
اب کیسا چاک چاک ہو دل اس کے ہجر میں گتھواں تو لخت دل سے نکلتی ہے میری آہ
اب کیسا چاک چاک ہو دل اس کے ہجر میں، گُتھواں تو لَخْتِ-ے-دل سے نکلتی ہے میری آہ۔
3
शाम शब-ए-विसाल हुई याँ कि इस तरफ़ होने लगा तुलूअ' ही ख़ुर्शीद रू-सियाह
شام شب وصال ہوئی یاں کہ اس طرف ہونے لگا طلوع ہی خورشید رو سیاہ
کیا شام وصال کی شب ہوئی یا اس طرف طلوع ہی خورشید رو سیہ۔
4
गुज़रा मैं उस सुलूक से देखा न कर मुझे बर्छी सी लाग जा है जिगर में तिरी निगाह
گزرا میں اس سلوک سے دیکھا نہ کر مجھے برچھی سی لاگ جا ہے جگر میں تری نگاہ
شاعِر کہتا ہے کہ وہ اس سلوک سے گزر چکا ہے، لہٰذا مجھے نہ دیکھو؛ تمہاری نگاہ میرے دل میں ایک چھوٹے کانٹے کی طرح چبھ گئی ہے۔
5
दामान-ओ-जेब चाक ख़राबी-ओ-ख़स्तगी उन से तिरे फ़िराक़ में हम ने किया निबाह
دامان و جیب چاک خرابی و خستگی ان سے ترے فراق میں ہم نے کیا نباہ
دامن و جیب سے لے کر خرابی و خستہگی تک، آپ کے فراق میں ہم نے خود کو ان چیزوں سے سنبھالا۔
6
बेताबियों को सौंप न देना कहीं मुझे ऐ सब्र मैं ने आन के ली है तिरी पनाह
اے صبر، مجھے کہیں اپنی بےتابیوں کو نہ دے دینا۔ میں تو تمہاری پناہ میں صبر لے کر آئی ہوں۔
7
ख़ूँ-बस्ता बारे रहने लगी अब तो ये मिज़ा आँसू की बूँद जिस से टपकती थी गाह गाह
خوں بستہ بارے رہنے لگی اب تو یہ مژہ آنسو کی بوند جس سے ٹپکتی تھی گاہ گاہ
یہ مزاج اب خون-بستہ ہو گیا ہے، اور یہ آنسو کی بوند سے ٹپکتی ہوئی آہ گاہ ہے۔
8
गुल से शगुफ़्ता दाग़ दिखाता हूँ तेरे तीं गर मुवाफ़क़त करे है तनिक मुझ से साल-ओ-माह
گل سے شگفتہ داغ دکھاتا ہوں تیرے تیں گر موافقت کرے ہے تنک مجھ سے سال و ماہ
میں تمہیں گل سے کھلا ہوا داغ دکھاتا ہوں، اگر تم مجھ سے صرف سال و مہینے تک راضی ہو جاؤ۔
9
गर मना मुझ को करते हैं तेरी गली से लोग क्यूँकर न जाऊँ मुझ को तो मरना है ख़्वा-मख़्वाह
گر منع مجھ کو کرتے ہیں تیری گلی سے لوگ کیوں کر نہ جاؤں مجھ کو تو مرنا ہے خوا مخواہ
لوگ کہتے ہیں کہ تیری گلی سے گزرتے ہوئے میں خود کو روک نہیں پا رہا ہوں۔ کیوں نہ جاؤں، کیونکہ تو مرنا ہی ہے تیرے پیار کی خاطر۔
10
नाहक़ उलझ पड़ा है ये मुझ से तरीक़-ए-इश्क़ जाता था 'मीर' में तो चला अपनी राह राह
ناحق الجھ پڑا ہے یہ مجھ سے طریق عشق جاتا تھا میرؔ میں تو چلا اپنی راہ راہ
یہ عشق کا راستہ مجھ سے ناہق سے उलझ گیا ہے؛ میر کہتا ہے کہ اگر میں جاتا تو اپنا راستہ ہی چنتا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.