غزل

गर्मी से मैं तो आतिश-ए-ग़म की पिघल गया

गर्मी से मैं तो आतिश-ए-ग़म की पिघल गया
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل بیان کرتی ہے کہ عاشق شدید گرمی اور غم کی آتشی شدت سے پگھل گیا ہے۔ شاعر اپنی نازک اور غیر مستحکم جذبات کا اظہار کرتا ہے، جیسے آنسوؤں میں سکراب ہو جانا۔ آخر کار، وہ عشق کی مستی میں کہیں کھو گیا تھا لیکن خود کو سنبھالنے میں کامیاب ہو گیا۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
गर्मी से मैं तो आतिश-ए-ग़म की पिघल गया रातों को रोते रोते ही जों शम-ए-गुल गया
گرمی سے میں تو آتش غم کی پگھل گیا راتوں کو روتے روتے ہی جوں شمع گل گیا
گرمی سے میں تو آتشِ غم کی پگھل گیا، راتوں کو روتے روتے ہی جونِ شمعِ گل ہو گیا۔
2
हम ख़स्ता-दिल हैं तुझ से भी नाज़ुक-मिज़ाज-तर तेवरी चढ़ाई तू ने कि याँ जी निकल गया
ہم خستہ دل ہیں تجھ سے بھی نازک مزاج تر تیوری چڑھائی تو نے کہ یاں جی نکل گیا
ہم تم سے زیادہ خستہ دل اور نازک مزاج ہیں، پھر بھی تم نے جو اذیت دی ہے، اس سے ہماری جان تقریباً نکل گئی ہے۔
3
गर्मी-ए-इश्क़ माने नश्व-ओ-नुमा हुई मैं वो निहाल था कि उगा और जल गया
گرمئ عشق مانع نشوونما ہوئی میں وہ نہال تھا کہ اگا اور جل گیا
عشق کی گرمی کو میں نے شام کی چمک سمجھ لیا؛ میں اتنا نائل ہوا کہ میں کھلا اور جل گیا۔
4
मस्ती में छोड़ दैर को का'बे चला था मैं लग़्ज़िश बड़ी हुई थी व-लेकिन सँभल गया
مستی میں چھوڑ دیر کو کعبے چلا تھا میں لغزش بڑی ہوئی تھی ولیکن سنبھل گیا
مستی میں میں کعبہ کو چھوڑ کر چل دیا تھا؛ میرا نشہ بہت بڑھ گیا تھا، مگر میں سنبھل گیا۔
5
साक़ी नशे में तुझ से लुंढा शीशा-ए-शराब चल अब कि दुख़्त-ए-ताक का जोबन तो ढल गया
ساقی نشے میں تجھ سے لنڈھا شیشۂ شراب چل اب کہ دخت تاک کا جوبن تو ڈھل گیا
ساقی، نَشے میں تُجھ سے شراب کا ایک بھٹکتا ہوا آئینہ ہے؛ اب چل، کیونکہ غم کے محراب کا جوانی تو ڈھل گئی ہے۔
6
हर ज़र्रा ख़ाक तेरी गली की है बे-क़रार याँ कौन सा सितम-ज़दा माटी में रुल गया
ہر ذرہ خاک تیری گلی کی ہے بے قرار یاں کون سا ستم زدہ ماٹی میں رل گیا
تیرے گلی کا ہر ذرہ مٹی میں بے قرار ہے، کون سی ستم زدہ چیز ہے جو زمین کو رلا گئی؟
7
उर्यां तनी की शोख़ी से दीवानगी में 'मीर' मजनूँ के दश्त-ए-ख़ार का दामाँ भी चल गया
عریاں تنی کی شوخی سے دیوانگی میں میرؔ مجنوں کے دشت خار کا داماں بھی چل گیا
آپریٰں تنی کی سُوخی سے دیوانگی میں 'میر' کہتا ہے کہ مجنوں کے دشتِ خَار کا دامن بھی چل گیا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.