ساقی نشے میں تجھ سے لنڈھا شیشۂ شراب — میر تقی میر
ساقی نشے میں تجھ سے لنڈھا شیشۂ شراب
چل اب کہ دخت تاک کا جوبن تو ڈھل گیا
“Oh, cupbearer, in your intoxication, you are a wandering mirror of wine; Now move, for the youth of the arch of sorrow has faded.”
— میر تقی میر
معنی
ساقی، نَشے میں تُجھ سے شراب کا ایک بھٹکتا ہوا آئینہ ہے؛ اب چل، کیونکہ غم کے محراب کا جوانی تو ڈھل گئی ہے۔
تشریح
یہ شعر وقت گزر جانے اور عارضی لذتوں سے چمٹے رہنے کی حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ شاعر ساقی سے کہہ رہے ہیں کہ اب یہ نشیلی شراب نہ پِلاو، کیونکہ زندگی کی جوانی، جوबन، گزر چکی ہے۔ یہ ایک گہرا فلسفیانہ احساس ہے کہ وقت کا گزرنا سب سے بڑا دکھ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
