غزل

अब आँखों में ख़ूँ दम-ब-दम देखते हैं

अब आँखों में ख़ूँ दम-ब-दम देखते हैं
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل ایک گہرے عشق اور جدائی کے احساس کو بیان کرتی ہے، جہاں شاعر اپنے محبوب کے لیے اپنے جذبات کو آنکھوں میں خون کی طرح ابلتے ہوئے دکھاتا ہے۔ وہ اپنے دل میں گہرے درد اور جدائی کے غم کا ذکر کرتا ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے محبوب کے قدم دیکھنے کے لیے بے چین ہے۔ یہ غزل عشق کے اس عروج کا بیان ہے جہاں زندگی اور موت کا فرق مٹ جاتا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
अब आँखों में ख़ूँ दम-ब-दम देखते हैं न पूछो जो कुछ रंग हम देखते हैं
اب آنکھوں میں خوں دم بہ دم دیکھتے ہیں نہ پوچھو جو کچھ رنگ ہم دیکھتے ہیں
اب آنکھوں میں خون دم دم دیکھتے ہیں؛ نہ پوچھو جو کچھ رنگ ہم دیکھتے ہیں
2
जो बे-अख़्तियारी यही है तो क़ासिद हमीं आ के उस के क़दम देखते हैं
جو بے اختیاری یہی ہے تو قاصد ہمیں آ کے اس کے قدم دیکھتے ہیں
اگر بے اختیار ہونا یہی ہے تو قاصد ہی آ کے اُس کے قدم دیکھتا ہے۔
3
गहे दाग़ रहता है दिल गा जिगर ख़ूँ उन आँखों से क्या क्या सितम देखते हैं
گہے داغ رہتا ہے دل گا جگر خوں ان آنکھوں سے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں
دل میں ایک داغ رہتا ہے، او دل، او جگر، او خون۔ اُن آنکھوں سے کیا کیا ستم دیکھے ہیں۔
4
अगर जान आँखों में उस बिन है तो हम अभी और भी कोई दम देखते हैं
اگر جان آنکھوں میں اس بن ہے تو ہم ابھی اور بھی کوئی دم دیکھتے ہیں
اگر جان آنکھوں میں اس کے بغیر ہے تو ہم ابھی اور بھی کوئی دم دیکھتے ہیں۔
5
लिखें हाल क्या उस को हैरत से हम तो गहे काग़ज़ ओ गह क़लम देखते हैं
لکھیں حال کیا اس کو حیرت سے ہم تو گہے کاغذ و گہہ قلم دیکھتے ہیں
کیا حال لکھیں گے اس کو، ہم تو حیرت سے بس کاغذ اور قلم دیکھتے ہیں۔
6
वफ़ा-पेशगी क़ैस तक थी भी कुछ कुछ अब उस तौर के लोग कम देखते हैं
وفا پیشگی قیس تک تھی بھی کچھ کچھ اب اس طور کے لوگ کم دیکھتے ہیں
شاعر کہہ رہے ہیں کہ وفاداری اور پیشگی کبھی ہر چیز میں دکھائی دیتی تھی، لیکن اب ایسے لوگ کم نظر آتے ہیں۔
7
कहाँ तक भला रोओगे 'मीर'-साहिब अब आँखों के गिर्द इक वरम देखते हैं
کہاں تک بھلا روؤ گے میرؔ صاحب اب آنکھوں کے گرد اک ورم دیکھتے ہیں
شاعِر میر سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اب اور نہیں روئے گا، کیونکہ وہ اب اپنی آنکھوں میں ایک محبوب کا نظارہ دیکھ رہا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.