غزل

ख़ुश-क़दाँ जब सवार होते हैं

ख़ुश-क़दाँ जब सवार होते हैं
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل ایک محبوب کی دلکش جمالیاتی کیفیت اور اس کے ساتھ گزارے گئے لمحات کی یادوں کو خراج پیش کرتی ہے۔ شاعر بیان کرتا ہے کہ جب وہ شخص اپنے حسین روپ میں آتا ہے، تو اس حسن کی تعریف کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، اور یہ یادیں دل کو مسحور کر جاتی ہیں۔ یہ غزل عشق کی گہرائی اور یادوں کے اثر کو پیش کرتی ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
ख़ुश-क़दाँ जब सवार होते हैं सर्व-ओ-क़ुमरी शिकार होते हैं
خوش قداں جب سوار ہوتے ہیں سرو و قمری شکار ہوتے ہیں
جب خوش-قداں سوار ہوتے ہیں، تو وہ ہر جگہ چاند کی طرح شکار کرتے ہیں۔
2
तेरे बालों के वस्फ़ में मेरे शे'र सब पेचदार होते हैं
تیرے بالوں کے وصف میں میرے شعر سب پیچ دار ہوتے ہیں
تمہارے بالوں کی وسف میں، میرے شعر سب پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔
3
आओ याद-ए-बुताँ प भूल न जाओ ये तग़ाफ़ुल-शिआर होते हैं
آؤ یاد بتاں پہ بھول نہ جاؤ یہ تغافل شعار ہوتے ہیں
آؤ یادِ بُتّاں پر بھول نہ جاؤ، یہ تغافلِ شِعَار ہوتے ہیں۔ (مطلب: آؤ، محبوب کا ذکر نہ بھولنا؛ یہ غفلت کے شعر ہیں۔)
4
देख लेवेंगे ग़ैर को तुझ पास सोहबतों में भी यार होते हैं
دیکھ لیویں گے غیر کو تجھ پاس صحبتوں میں بھی یار ہوتے ہیں
اس کا مطلب ہے کہ ہم تجھ کے قریب کسی اجنبی کو دیکھ لیں گے، کیونکہ صحبت میں بھی دوست موجود ہوتے ہیں۔
5
सदक़े हो लेवें एक-दम तेरे फिर तो तुझ पर निसार होते हैं
صدقے ہو لیویں ایک دم تیرے پھر تو تجھ پر نثار ہوتے ہیں
اگر میں سے بس ایک لمحہ لے لوں، تو میرا دل مکمل طور پر آپ پر نثار ہو جائے گا۔
6
तू करे है क़रार मिलने का हम अभी बे-क़रार होते हैं
تو کرے ہے قرار ملنے کا ہم ابھی بے قرار ہوتے ہیں
تو کرے ہے قرار ملنے کا، ہم ابھی بے قرار ہوتے ہیں
7
हफ़्त-इक़्लीम हर गली है कहीं दिल्ली से भी दयार होते हैं
ہفت اقلیم ہر گلی ہے کہیں دلی سے بھی دیار ہوتے ہیں
ہر گلی، ہر کونے میں، وہ سات ملکوں کی زمین ہے۔ یہاں تک کہ دہلی سے بھی کرم اور رحم کے مقامات ہیں۔
8
रफ़्ता रफ़्ता ये तिफ़्ल-ए-ख़ुश-ज़ाहिर फ़ित्ना-ए-रोज़गार होते हैं
رفتہ رفتہ یہ طفل خوش ظاہر فتنۂ روزگار ہوتے ہیں
رُفتہ رُفتہ یہ طفلِ خوش ظاہر فِتْنأ روزگار ہوتے ہیں
9
उस के नज़दीक कुछ नहीं इज़्ज़त 'मीर'-जी यूँ ही ख़्वार होते हैं
اس کے نزدیک کچھ نہیں عزت میرؔ جی یوں ہی خوار ہوتے ہیں
اس کے نزدیک کوئی عزت نہیں ہے؛ میر جی، یوں ہی خوار ہوتے ہیں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.