Sukhan AI
غزل

गर कुछ हो दर्द आईना यूँ चर्ख़-ए-ज़िश्त में

गर कुछ हो दर्द आईना यूँ चर्ख़-ए-ज़िश्त में
میر تقی میر· Ghazal· 8 shers

یہ غزل درد اور عشق کے آئینے کے ذریعے زندگی کی فانیت اور جدائی کے دکھ کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ عشق کی آگ میں ہر چیز خاک و کھِشت ہو جائے گی، اور یہ بے چین دل (سُوختا-دل) جنت میں بھی اذیت دے گا۔ بالآخر، شاعر اپنی آوارگی کو قبول کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ کب تک یہ جدوجہد کرتا رہے گا، اور وہ اپنے دل کے ساتھ بیٹھ جائے گا۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
गर कुछ हो दर्द आईना यूँ चर्ख़-ए-ज़िश्त में इन सूरतों को सिर्फ़ करे ख़ाक-ओ-ख़िश्त में
اگر کوئی دردناک بات ہو، تو زندگی کے اس چرخے کے آئینے میں، یہ چہرے صرف خاک و کھِشت بن جائیں گے۔
2
रखता है सोज़-ए-इश्क़ से दोज़ख़ में रोज़-ओ-शब ले जाएगा ये सोख़्ता-दिल क्या बहिश्त में
محبت کی جلن سے یہ مجھے روز و شب دوزخ میں رکھتا ہے، کیا یہ جلتا دل مجھے بہشت میں لے جائے گا؟
3
आसूदा क्यूँके हूँ मैं कि मानिंद-ए-गर्द-बाद आवारगी तमाम है मेरी सरिश्त में
میں کیوں اتنا معصوم ہوں، جیسے کوئی پرندہ، کیونکہ میری ساری ہستی ہی ایک بھٹکنے کا سفر ہے۔
4
कब तक ख़राब सई-ए-तवाफ़-ए-हरम रहूँ दिल को उठा के बैठ रहूँगा कुनिश्त में
میں کب تک خراب سئی-ए-تواف-ए-حرم رہوں اور دل کو کُنِشٹ میں بیٹھا رہوں۔
5
मातम के हूँ ज़मीन पे ख़िर्मन तो क्या अजब होता है नील चर्ख़ की उस सब्ज़ किश्त में
زمین پر میرا ماتم، اور خرمن کیا عجیب ہے، اس سبز رَوے میں نیل چکر کا۔
6
सरमस्त हम हैं आँखों के देखे से यार की कब ये नशा है दुख़्तर-ए-रज़ तुझ पलिश्त में
ہم تو یار کی آنکھوں کے دیکھنے سے سَرمنش ہیں؛ یہ نشہ کیا ہے، دکھترِ رَز، تجھ پَلشٹ میں۔
7
रिंदों के तईं हमेशा मलामत करे है तू आजाइयो शैख़ कहीं हश्त-बहिश्त में
تم ہمیشہ رندوں کی تنقید کرتے ہو، اے محبوب۔ کہیں بھی نہ آنا، اے شیخ، اس حشرت-بہشت کی دنیا میں۔
8
नामे को चाक कर के करे नामा-बर को क़त्ल क्या ये लिखा था 'मीर' मरी सर-नविश्त में
نامے کو چاک کر کے نامہ-بر کو قتل کرنا، کیا یہ بات 'میر' نے میری سر-نوشت میں لکھی تھی؟
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

गर कुछ हो दर्द आईना यूँ चर्ख़-ए-ज़िश्त में | Sukhan AI