رندوں کے تئیں ہمیشہ ملامت کرے ہے تو آجائیو نہ شیخ کہیں ہشت بہشت میں

“You always criticize the wanderers, O beloved, Do not come, O Sheikh, anywhere in this world of hell and heaven.”

— میر تقی میر
معنی

تم ہمیشہ رندوں کی تنقید کرتے ہو، اے محبوب۔ کہیں بھی نہ آنا، اے شیخ، اس حشرت-بہشت کی دنیا میں۔

تشریح

یہ شعر ایک ایسے مفکر سے خطاب ہے جو ہمیشہ آزادی کی زندگی گزارنے والوں (رندوں) کی تنقید کرتا ہے۔ شاعر اسے کہہ رہے ہیں کہ وہ جنت اور جہنم کے درمیان کے مقام پر بھی قدم نہ رکھے، کیونکہ وہاں صرف کھوکھلا پن ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.