سرمست ہم ہیں آنکھوں کے دیکھے سے یار کی کب یہ نشہ ہے دختر رز تجھ پلشت میں

“We are intoxicated by the mere sight of the beloved, O my friend; what intoxication is this that resides within your very being?”

— میر تقی میر
معنی

ہم تو یار کی آنکھوں کے دیکھنے سے سَرمنش ہیں؛ یہ نشہ کیا ہے، دکھترِ رَز، تجھ پَلشٹ میں۔

تشریح

شعر میں شاعر نے عشق کے نشے کو ایک سوال کی صورت میں پیش کیا ہے۔ وہ پوچھ رہے ہیں کہ یہ جنون، یہ نشہ، کہاں سے آیا؟ یہ صرف محبوب کی نگاہوں کا کمال ہے، جو عاشق کو خود کو بھولنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.