غزل

ये तर्क हो के ख़शिन कज अगर कुलाह करें

ये तर्क हो के ख़शिन कज अगर कुलाह करें
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل بتاتی ہے کہ اگر دلیل سے دل کو خَشین کیا جائے تو عشق کے جنون میں آنکھیں سیاہ ہو سکتی ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ محبت میں کچھ تو طرف سے میسر ہونا چاہیے، ورنہ ہم اپنی طرف سے کتنی دیر تک نبھاتے رہیں۔ یہ بتاتی ہے کہ اگر کسی کی طرف کا علم مل جائے تو ہم بھی ضعیف ہو کر ہر قدم پر سربرہاہ کریں گے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
ये तर्क हो के ख़शिन कज अगर कुलाह करें तो बुल-हवस न कभू चश्म को सियाह करें
یہ ترک ہو کے خشن کج اگر کلاہ کریں تو بوالہوس نہ کبھو چشم کو سیاہ کریں
اگر یہ دلائل، خراب ہو کر اگر کلہاڑی سے کاٹ دیے جائیں، تو یہ خواہش کی لہر سے کبھی آنکھ کو سیاہ نہیں کر پائیں گے۔
2
तुम्हें भी चाहिए है कुछ तो पास चाहत का हम अपनी और से यूँ कब तलक निबाह करें
تمہیں بھی چاہیے ہے کچھ تو پاس چاہت کا ہم اپنی اور سے یوں کب تلک نباہ کریں
تمہیں بھی کچھ چاہت کا پاس چاہیے، ہم اپنی طرف سے اور کب تک نبھائیں۔
3
रखा है अपने तईं रोक रोक कर वर्ना सियाह कर दें ज़माने को हम जो आह करें
رکھا ہے اپنے تئیں روک روک کر ورنہ سیاہ کر دیں زمانے کو ہم جو آہ کریں
ہم نے اپنے جذبات کو بہت حد تک روک رکھا ہے؛ ورنہ اگر ہم آہ بھی کریں گے تو دنیا کو سیاہ کر دیں گے۔
4
जो उस की और को जाना मिले तो हम भी ज़'ईफ़ हज़ार सज्दे हर इक गाम सरबराह करें
جو اس کی اور کو جانا ملے تو ہم بھی ضعیف ہزار سجدے ہر اک گام سربراہ کریں
اگر کسی کو اُس کا علم ہو، تو ہم بھی ضعیف ہیں؛ ہر قدم پر ہزار سجدے کریں۔
5
हवा-ए-मय-कदा ये है तो फ़ौत-ए-वक़्त है ज़ुल्म नमाज़ छोड़ दें अब कोई दिन गुनाह करें
ہوائے مے کدہ یہ ہے تو فوت وقت ہے ظلم نماز چھوڑ دیں اب کوئی دن گناہ کریں
اگر یہ مے کی ہوا ہے، تو یہ وقت کا ظلم ہے؛ / کوئی دن نماز چھوڑ دے اور کوئی گناہ کرے۔
6
हमेशा कौन तकल्लुफ़ है ख़ूब-रूयों का गुज़ार नाज़ से ईधर भी गाह गाह करें
ہمیشہ کون تکلف ہے خوب رویوں کا گزار ناز سے ایدھر بھی گاہ گاہ کریں
خوبصورت چہروں کا ہمیشہ کیا تکلف ہوتا ہے؟ ناز سے ایسے ہی دکھاوے کرتے رہو اور ہر طرف آہیں بھرتے رہو۔
7
अगर उठेंगे इसी हाल से तो कहियो तू जो रोज़-ए-हश्र तुझी को न उज़्र-ख़्वाह करें
اگر اٹھیں گے اسی حال سے تو کہیو تو جو روز حشر تجھی کو نہ عذر خواہ کریں
اگر اٹھیں گے اسی حال سے تو کہہ دیجیے کہ روزِ حشر کو کوئی آپ سے عذر خواہ نہیں کرے گا۔
8
बुरी बला हैं सितम-कुश्ता-ए-मोहब्बत हम जो तेग़ बरसे तो सर को न कुछ पनाह करें
بری بلا ہیں ستم کشتۂ محبت ہم جو تیغ برسے تو سر کو نہ کچھ پناہ کریں
ہم محبت کے ستم اور قسطہ ایک بُری بلا ہیں؛ اگر تیر برسے تو سر کو کوئی پناہ نہیں ملتی۔
9
अगरचे सहल हैं पर दीदनी हैं हम भी 'मीर' उधर को यार तअम्मुल से गर निगाह करें
اگرچہ سہل ہیں پر دیدنی ہیں ہم بھی میرؔ ادھر کو یار تأمل سے گر نگاہ کریں
اگرچہ سَہل ہیں پر دیدنی ہیں ہم بھی، یا دوست، اگر وہ دوسری طرف غور سے نگاہ کرے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.