غزل
जाना कि शग़्ल रखते हो तीर-ओ-कमाँ से तुम
जाना कि शग़्ल रखते हो तीर-ओ-कमाँ से तुम
یہ غزل عشق اور فراق کے جذبات کا اظہار کرتی ہے، جس میں شاعر محبوب سے شکایت کرتے ہیں کہ وہ صرف تکلیف اور دکھ پہنچانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ غزل میں محبوب کی سچائی پر سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا آپ کی زبان سے نکلے الفاظ واقعی تھے یا صرف دکھاوا۔ آخر میں، یہ غزل محبوب کو زندگی میں اپنی سچائی اور وفاداری برقرار رکھنے کی ایک دردناک وارننگ ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
जाना कि शग़्ल रखते हो तीर-ओ-कमाँ से तुम
पर मिल चला करो भी कसो ख़स्ता-जाँ से तुम
جاننا کہ تم تیر و کمان سے کھیل رکھتے ہو، یا پھر کسی نازک جان سے پیار کرنا۔
2
हम अपनी चाक जेब को सी रहते या नहीं
फाटे में पाँव देने को आए कहाँ से तुम
ہم اپنی چاک جیب کو سیتے یا نہیں، پھٹے میں پاؤں دینے کے لیے آئے کہاں سے تم۔
3
अब देखते हैं ख़ूब तो वो बात ही नहीं
क्या क्या वगर्ना कहते थे अपनी ज़बाँ से तुम
اب دیکھتے ہیں خوب تو وہ بات ہی نہیں، یہ وہ سب کچھ ہے جو تم نے اپنی زبان سے کہا تھا۔
4
तिनके भी तुम ठहरते कहीं देखे हैं तनिक
चश्म-ए-वफ़ा रखो न ख़सान-ए-जहाँ से तुम
میں نے کہیں بھی تِنکے بھی ٹھہرتے دیکھا ہے؛ اپنی وفاداری کی نظر رکھنا، ورنہ تم پوری دنیا سے محروم ہو جاؤ گے۔
5
जाओ न दिल से मंज़र-ए-तन में है जा यही
पछताओगे उठोगे अगर इस मकाँ से तुम
جاؤ نہ دل سے منظرِ تن میں ہے جا یہی۔ پچھتاؤ گے اٹھو گے اگر اس مکان سے تم۔ (یعنی: میرے دل سے دور مت جانا، کیونکہ یہ جسم ہی میرا گھر ہے، اور اگر تم مجھ سے دور ہو گئے تو تمہیں اس کا بہت افسوس ہوگا۔)
6
क़िस्सा मिरा सुनोगे तो जाती रहेगी नींद
आराम चश्म मत रखो इस दास्ताँ से तुम
اگر تم میرا قصہ سنو گے تو جاتی رہے گی نیند، آرام چشم مت رکھو اس داستان سے تم۔
7
खुल जाएँगी फिर आँखें जो मर जाएगा कोई
आते नहीं हो बाज़ मिरे इम्तिहाँ से तुम
میری آنکھیں پھر کھل جائیں گی، چاہے کوئی مر جائے، تم میرے امتحان سے نہیں آتے۔
8
जितने थे कल तुम आज नहीं पाते इतना हम
हर-दम चले ही जाते हो आब-ए-रवाँ से तुम
جتنے تھے کل تم، آج وہ نہیں؛ تم بہتے رہتے ہو، جیسے بہتا پانی۔
9
रहते नहीं हो बन गए 'मीर' उस गली में रात
कुछ राह भी निकालो सग-ओ-पास्बाँ से तुम
اے میر، تم اب اس گلی میں رات نہیں ٹھہرتے؛ کچھ راہ کتے اور پاسبان سے بھی نکالو۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
