रहते नहीं हो बन गए 'मीर' उस गली में रात
कुछ राह भी निकालो सग-ओ-पास्बाँ से तुम
“You no longer reside in that alley, 'Mir', at night; Find some path, please, away from the guard and the leash.”
— میر تقی میر
معنی
اے میر، تم اب اس گلی میں رات نہیں ٹھہرتے؛ کچھ راہ کتے اور پاسبان سے بھی نکالو۔
تشریح
یہ شعر ایک گہرے تعلق سے نکلنے کی خواہش کو بیان کرتا ہے۔ شاعر محبوب سے کہہ رہے ہیں کہ آپ تو اس گلی میں رات بن گئے ہیں، اور اس دائمی ساتھ (سگ و پاسبان) سے کوئی راستہ نکال لیں۔ یہ ایک خوبصورت جدائی کی التجا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev9 / 9
