غزل

क्या बुलबुल असीर है बे-बाल-ओ-पर कि हम

क्या बुलबुल असीर है बे-बाल-ओ-पर कि हम
میر تقی میر· Ghazal· 8 shers

یہ غزل محبت، جدائی اور جذبات کی پیچیدگی کے گہرے موضوعات کو بیان کرتی ہے۔ شاعر نے اپنے جذبات کی شدت کو ظاہر کرنے کے لیے پرندے، پھول اور شبنم جیسے خوبصورت قدرتی تصورات کا استعمال کیا ہے۔ اس میں زندگی کے جدوجہد اور محبت کی نازک نوعیت پر غور کیا گیا ہے، جو ایک گہرے جذباتی سفر کی عکاسی کرتا ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
क्या बुलबुल असीर है बे-बाल-ओ-पर कि हम गुल कब रखे है टुकड़े जिगर इस क़दर कि हम
کیا بلبل اسیر ہے بے بال و پر کہ ہم گل کب رکھے ہے ٹکڑے جگر اس قدر کہ ہم
کیا بلبل قید خانہ ہے بغیر بال و پر کہ ہم، یا ہم نے دل کے ٹکڑے اس قدر کیے ہیں کہ ہم
2
ख़ुर्शीद सुब्ह निकले है इस नूर से कि तो शबनम गिरह में रखती है ये चश्म-ए-तर कि हम
خورشید صبح نکلے ہے اس نور سے کہ تو شبنم گرہ میں رکھتی ہے یہ چشم تر کہ ہم
اے خورشید، تم اتنی چمک کے ساتھ نکلے ہو کہ یہ آنسو سے تر چشم اسے شبنم کے گچھے میں رکھتی ہے۔
3
जीते हैं तो दिखा देंगे दावा-ए-अंदलीब गुल बिन ख़िज़ाँ में अब के वो रहती है मर कि हम
جیتے ہیں تو دکھا دیں گے دعواے عندلیب گل بن خزاں میں اب کے وہ رہتی ہے مر کہ ہم
اگر ہم زندہ رہے، تو باغ جیسی خوبصورتی کا دعویٰ دکھائیں گے؛ لیکن اب تو پھول خزاں میں ہے، اور ہم مر چکے ہیں۔
4
ये तेग़ है ये तश्त है ये हम हैं कुश्तनी खेले है कौन ऐसी तरह जान पर कि हम
یہ تیغ ہے یہ طشت ہے یہ ہم ہیں کشتنی کھیلے ہے کون ایسی طرح جان پر کہ ہم
یہ تیغ ہے یہ پشت ہے یہ ہم ہیں کشتی کے کھلاڑی؛ کس نے جان پر اس طرح سے کھیل کھیلا؟
5
तलवारें तुम लगाते हो हम हैंगे दम-ब-ख़ुद दुनिया में ये करे है कोई दरगुज़र कि हम
تلواریں تم لگاتے ہو ہم ہیں گے دم بخود دنیا میں یہ کرے ہے کوئی درگزر کہ ہم
تم تلواریں نچھاور کرتے ہو، مگر ہم خود ہی دم توڑ دیں گے؛ اس دنیا میں، اگر کوئی بھی ہمارے پاس سے گزر جائے،
6
इस जुस्तुजू में और ख़राबी तो क्या कहें इतनी नहीं हुई है सबा दर-ब-दर कि हम
اس جستجو میں اور خرابی تو کیا کہیں اتنی نہیں ہوئی ہے صبا در بہ در کہ ہم
اس جستجو میں اور خرابی تو کیا کہیں، اتنی نہیں ہوئی ہے بہار ہر در بہ در کہ ہم۔
7
जब जा फँसा कहीं तो हमें याँ हुई ख़बर रखता है कौन दिल तिरी इतनी ख़बर कि हम
جب جا پھنسا کہیں تو ہمیں یاں ہوئی خبر رکھتا ہے کون دل تری اتنی خبر کہ ہم
جب جا پھنسا کہیں تو ہمیں یہاں ہوئی خبر رکھتا ہے کون؟ دل تیری اتنی خبر رکھتا ہے کہ ہم۔
8
जीते हैं और रोते हैं लख़्त-ए-जिगर है 'मीर' करते सुना है यूँ कोई क़ीमा जिगर कि हम
جیتے ہیں اور روتے ہیں لخت جگر ہے میرؔ کرتے سنا ہے یوں کوئی قیمہ جگر کہ ہم
جیتے ہیں اور روتے ہیں، یہ لختِ جگر ہے اے میر۔ کرتے سنا ہے یوں کوئی قیما جگر کہ ہم۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

क्या बुलबुल असीर है बे-बाल-ओ-पर कि हम | Sukhan AI