غزل

मर मर गए नज़र कर उस के बरहना तन में

मर मर गए नज़र कर उस के बरहना तन में
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل دل کی شدید محبت، جدائی اور مایوسی کے احساسات کو بیان کرتی ہے، جس میں محبوب کے ننگے جسم کو بار بار دیکھنے کی شدید خواہش کا ذکر ہے۔ یہ زندگی کی عارضی حیثیت اور جدائی کے گہرے درد کو بیان کرتی ہے، جس میں نقصان اور خود اعتمادی کی کمی کے موضوعات نمایاں ہیں۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
मर मर गए नज़र कर उस के बरहना तन में कपड़े उतारे उन ने सर खींचे हम कफ़न में
مر مر گئے نظر کر اس کے برہنہ تن میں کپڑے اتارے ان نے سر کھینچے ہم کفن میں
میری آنکھیں اس کے ننگے جسم کو دیکھ کر مر گئیں؛ انہوں نے کپڑے اتارے اور ہمیں کفن میں گھسیٹ دیا۔
2
गुल फूल से कब उस बिन लगती हैं अपनी आँखें लाई बहार हम को ज़ोर-आवरी चमन में
گل پھول سے کب اس بن لگتی ہیں اپنی آنکھیں لائی بہار ہم کو زور آوری چمن میں
شاعر پوچھتا ہے کہ اس کی آنکھیں محبوب جیسی کب لگیں گی، اور اس سے گزارش کرتا ہے کہ اسے چمن میں زبردست بہار نہیں، بلکہ نازک بہار ملے۔
3
अब लाल-ए-नौ-ख़त उस के कम बख़्शते हैं फ़रहत क़ुव्वत कहाँ रहे है याक़ूती-ए-कुहन में
اب لعل نو خط اس کے کم بخشتے ہیں فرحت قوت کہاں رہے ہے یاقوتی کہن میں
اب لالے نو-خطے کی وہ خوشی اسے کم ملتی ہے، / قوت کہاں ہے یاقوتےِ کوہن میں۔
4
यूसुफ़ अज़ीज़-ए-दिल-हा जा मिस्र में हुआ था पाकीज़ा गौहरों की 'इज़्ज़त नहीं वतन में
یوسف عزیز دلہا جا مصر میں ہوا تھا پاکیزہ گوہروں کی عزت نہیں وطن میں
شایر کا اشارہ ہے کہ جس طرح یوسف دل کے عزیز تھے اور مصر گئے، اسی طرح پاک اور انمول چیزوں کی عزت وطن میں نہیں ہے۔
5
दैर ओ हरम से तू तो टुक गर्म-ए-नाज़ निकला हंगामा हो रहा है अब शैख़ ओ बरहमन में
دیر و حرم سے تو تو ٹک گرم ناز نکلا ہنگامہ ہو رہا ہے اب شیخ و برہمن میں
اے حرم سے تو تِک گرمِ ناز نکلا، ہنگامہ ہو رہا ہے اب شیخ و برہمن میں۔
6
आ जाते शहर में तू जैसे कि आँधी आई क्या वहशतें किया हैं हम ने दिवानपन में
آ جاتے شہر میں تو جیسے کہ آندھی آئی کیا وحشتیں کیا ہیں ہم نے دوان پن میں
جب تم شہر میں آئی، تو جیسے کوئی آندھی آ گئی؛ کیا ہم نے اپنی دیوانگی میں اتنی تباہی کر دی ہے۔
7
हैं घाव दिल पर अपने तेग़-ए-ज़बाँ से सब की तब दर्द है हमारे ऐ 'मीर' हर सुख़न में
ہیں گھاؤ دل پر اپنے تیغ زباں سے سب کی تب درد ہے ہمارے اے میرؔ ہر سخن میں
میر کے، میرے دل پر ہر کسی کی زباں کی تلوار سے زخم ہیں؛ ہر ایک بات میں ہمارے درد ہیں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.