غزل
मक्का गया मदीना गया कर्बला गया
मक्का गया मदीना गया कर्बला गया
یہ غزل مکہ، مدینہ اور کربلا جیسی اہم جگہوں کے سفر کے تجربے کو بیان کرتی ہے۔ اس میں یہ بات کہی گئی ہے کہ جو کچھ بھی کہیں کھو گیا تھا، وہ واپس آ گیا ہے، اور شاعر خود کو آمد و رفت کی پیچیدہ کیفیت میں گم پایا ہے۔
نغمہ سنیں
1
मक्का गया मदीना गया कर्बला गया
जैसा गया था वैसा ही चल फिर के आ गया
مکہ گیا مدینہ گیا کربلا گیا
جیسا گیا تھا ویسا ہی چل پھر کے آ گیا
مکہ گئے، مدینہ گئے، کربلا گئے؛ جیسا گئے تھے ویسا ہی گھوم پھر کر آ گئے۔
2
देखा हो कुछ उस आमद-ओ-शुद में तो मैं कहूँ
ख़ुद गुम हुआ हूँ बात की तह अब जो पा गया
دیکھا ہو کچھ اس آمد و شد میں تو میں کہوں
خود گم ہوا ہوں بات کی تہہ اب جو پا گیا
اگر میں اس آمد و رفت میں کچھ دیکھتا، تو کہوں گا کہ میں اب بات کی تہ میں خود گم ہوا ہوں۔
3
कपड़े गले के मेरे न हों आब-दीदा क्यूँ
मानिंद-ए-अब्र दीदा-ए-तर अब तो छा गया
کپڑے گلے کے میرے نہ ہوں آب دیدہ کیوں
مانند ابر دیدۂ تر اب تو چھا گیا
میرے گلے پر کپڑے کیوں ہوں، اے محبوب؟ تیری نظر، بادل کی طرح، اب مجھ پر چھا گئی ہے۔
4
जाँ-सोज़ आह ओ नाला समझता नहीं हूँ मैं
यक शो'ला मेरे दिल से उठा था जला गया
جاں سوز آہ و نالہ سمجھتا نہیں ہوں میں
یک شعلہ میرے دل سے اٹھا تھا جلا گیا
جاں سوز آہ او نالہ، میں سمجھتا نہیں ہوں تم کو؛ یہ شعلہ میرے دل سے اٹھا تھا اور مجھے جلا گیا۔
5
वो मुझ से भागता ही फिरा किब्र-ओ-नाज़ से
जूँ जूँ नियाज़ कर के मैं उस से लगा गया
وہ مجھ سے بھاگتا ہی پھرا کبر و ناز سے
جوں جوں نیاز کر کے میں اس سے لگا گیا
وہ مجھ سے کبر و ناز سے بھاگتا ہی رہا، مگر میں نے نیاز کر کے اسے گھیر لیا اور اس سے لگا دیا۔
6
जोर-ए-सिपहर-ए-दूँ से बुरा हाल था बहुत
मैं शर्म-ए-ना-कसी से ज़मीं में समा गया
جور سپہر دوں سے برا حال تھا بہت
میں شرم ناکسی سے زمیں میں سما گیا
اس کا مطلب ہے کہ میری حالت صبح کی چمک سے بھی بدتر تھی؛ میں اپنی کسی موجودگی کے نہ ہونے کی شرم سے زمین میں دھنس گیا۔
7
देखा जो राह जाते तबख़्तुर के साथ उसे
फिर मुझ शिकस्ता-पा से न इक-दम रहा गया
دیکھا جو راہ جاتے تبختر کے ساتھ اسے
پھر مجھ شکستہ پا سے نہ اک دم رہا گیا
جب میں نے اسے تبختر کے ساتھ جاتے دیکھا، تو میں فوراً غمگین ہو گیا۔
8
बैठा तो बोरिए के तईं सर पे रख के 'मीर'
सफ़ किस अदब से हम फ़ुक़रा की उठा गया
بیٹھا تو بوریے کے تئیں سر پہ رکھ کے میرؔ
صف کس ادب سے ہم فقرا کی اٹھا گیا
جب میں بوریے کو سر پر رکھ کر بیٹھا، تو شاعر نے پوچھا کہ میں نے کس ادب سے فقرے کا پرچم اٹھا لیا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
