Sukhan AI
غزل

मक्का गया मदीना गया कर्बला गया

मक्का गया मदीना गया कर्बला गया
میر تقی میر· Ghazal· 8 shers

یہ غزل مکہ، مدینہ اور کربلا جیسی اہم جگہوں کے سفر کے تجربے کو بیان کرتی ہے۔ اس میں یہ بات کہی گئی ہے کہ جو کچھ بھی کہیں کھو گیا تھا، وہ واپس آ گیا ہے، اور شاعر خود کو آمد و رفت کی پیچیدہ کیفیت میں گم پایا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
मक्का गया मदीना गया कर्बला गया जैसा गया था वैसा ही चल फिर के गया
مکہ گئے، مدینہ گئے، کربلا گئے؛ جیسا گئے تھے ویسا ہی گھوم پھر کر آ گئے۔
2
देखा हो कुछ उस आमद-ओ-शुद में तो मैं कहूँ ख़ुद गुम हुआ हूँ बात की तह अब जो पा गया
اگر میں اس آمد و رفت میں کچھ دیکھتا، تو کہوں گا کہ میں اب بات کی تہ میں خود گم ہوا ہوں۔
3
कपड़े गले के मेरे हों आब-दीदा क्यूँ मानिंद-ए-अब्र दीदा-ए-तर अब तो छा गया
میرے گلے پر کپڑے کیوں ہوں، اے محبوب؟ تیری نظر، بادل کی طرح، اب مجھ پر چھا گئی ہے۔
4
जाँ-सोज़ आह नाला समझता नहीं हूँ मैं यक शो'ला मेरे दिल से उठा था जला गया
جاں سوز آہ او نالہ، میں سمجھتا نہیں ہوں تم کو؛ یہ شعلہ میرے دل سے اٹھا تھا اور مجھے جلا گیا۔
5
वो मुझ से भागता ही फिरा किब्र-ओ-नाज़ से जूँ जूँ नियाज़ कर के मैं उस से लगा गया
وہ مجھ سے کبر و ناز سے بھاگتا ہی رہا، مگر میں نے نیاز کر کے اسے گھیر لیا اور اس سے لگا دیا۔
6
जोर-ए-सिपहर-ए-दूँ से बुरा हाल था बहुत मैं शर्म-ए-ना-कसी से ज़मीं में समा गया
اس کا مطلب ہے کہ میری حالت صبح کی چمک سے بھی بدتر تھی؛ میں اپنی کسی موجودگی کے نہ ہونے کی شرم سے زمین میں دھنس گیا۔
7
देखा जो राह जाते तबख़्तुर के साथ उसे फिर मुझ शिकस्ता-पा से इक-दम रहा गया
جب میں نے اسے تبختر کے ساتھ جاتے دیکھا، تو میں فوراً غمگین ہو گیا۔
8
बैठा तो बोरिए के तईं सर पे रख के 'मीर' सफ़ किस अदब से हम फ़ुक़रा की उठा गया
جب میں بوریے کو سر پر رکھ کر بیٹھا، تو شاعر نے پوچھا کہ میں نے کس ادب سے فقرے کا پرچم اٹھا لیا۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

मक्का गया मदीना गया कर्बला गया | Sukhan AI