وہ مجھ سے بھاگتا ہی پھرا کبر و ناز سے جوں جوں نیاز کر کے میں اس سے لگا گیا

“He kept running away from me with arrogance and pride, But I cornered him and made him accept my favor.”

— میر تقی میر
معنی

وہ مجھ سے کبر و ناز سے بھاگتا ہی رہا، مگر میں نے نیاز کر کے اسے گھیر لیا اور اس سے لگا دیا۔

تشریح

یہ شعر ایک شاندار محبت کے جدوجہد کو پیش کرتا ہے۔ شاعر نے یہاں اپنی محبت کو ایک نفاست بھری نیاز (favor) کی شکل میں دکھایا ہے، جو محبوب کے کبر و ناز (عنادی) پر غالب آ جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے عشق کی یہ سچائی اتنی گہری ہے کہ یہ کسی بھی غرور کی دیوار کو مسمار کر کے اپنا حق ثابت کر دیتی ہے۔ یہ Mir Taqi Mir کا وہ منفرد زاویہ ہے جہاں محبت کی فتح ہمیشہ تکبر پر ہوتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.