غزل

लड़ के फिर आए डर गए शायद

लड़ के फिर आए डर गए शायद
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل ایک گہرے جذباتی عدمِ یقین اور عارضی ہونے کے احساس کو بیان کرتی ہے۔ اس میں محبت، جدائی، اور زندگی کی فانی نوعیت کا ذکر ہے، جو یہ تاثر دیتی ہے کہ ہر چیز—جذباتی ہلچل سے لے کر جسمانی موجودگی تک—تبدیل ہو گئی یا گزر گئی ہے۔ نظم میں تنہائی اور رضا کا ایک اداس لہجہ ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
लड़ के फिर आए डर गए शायद बिगड़े थे कुछ सँवर गए शायद
لڑ کے پھر آئے ڈر گئے شاید بگڑے تھے کچھ سنور گئے شاید
شاید لڑ کے پھر آئے، پر ڈر گئے؛ شاید بگڑے تھے کچھ، پر سنور بھی گئے۔
2
सब परेशाँ दिली में शब गुज़री बाल उस के बिखर गए शायद
سب پریشاں دلی میں شب گزری بال اس کے بکھر گئے شاید
سب پریشان دلی میں شب گزری، شاید اس کے بال بکھر گئے۔
3
कुछ ख़बर होती तो न होती ख़बर सूफि़याँ बे-ख़बर गए शायद
کچھ خبر ہوتی تو نہ ہوتی خبر صوفیاں بے خبر گئے شاید
اگر کوئی خبر ہوتی تو کوئی خبر ہی نہ ہوتی، شاید صوفی لوگ بے خبر ہو گئے۔
4
हैं मकान ओ सरा ओ जा ख़ाली यार सब कूच कर गए शायद
ہیں مکان و سرا و جا خالی یار سب کوچ کر گئے شاید
مکان اور سرائے خالی ہیں، اور شاید میرے سارے دوست کہیں چلے گئے ہیں۔
5
आँख आईना-रू छुपाते हैं दिल को ले कर मुकर गए शायद
آنکھ آئینہ رو چھپاتے ہیں دل کو لے کر مکر گئے شاید
آنکھیں آینے جیسا راز چھپاتی ہیں، شاید دل بھی اس کے ساتھ منہ موڑ گیا۔
6
लोहू आँखों में अब नहीं आता ज़ख़्म अब दिल के भर गए शायद
لوہو آنکھوں میں اب نہیں آتا زخم اب دل کے بھر گئے شاید
آنکھوں میں اب خون نہیں آتا، زخم شاید دل کے بھر گئے ہیں۔
7
अब कहीं जंगलों में मिलते नहीं हज़रत-ए-ख़िज़्र मर गए शायद
اب کہیں جنگلوں میں ملتے نہیں حضرت خضر مر گئے شاید
اب کہیں جنگلوں میں حضرتِ خضر نہیں ملتے، شاید وہ وفات پا گئے ہیں۔
8
बे-कली भी क़फ़स में है दुश्वार काम से बाल ओ पर गए शायद
بے کلی بھی قفس میں ہے دشوار کام سے بال و پر گئے شاید
بے کلی بھی قفس میں ہے دشوار، کام سے بال و پر گئے شاید۔ اس کا لغوی مطلب یہ ہے کہ یہاں تک کہ کلی بھی قفس میں پریشان ہے، شاید کام (یا وقت) کی وجہ سے بال اور جوانی چلی گئی ہے۔
9
शोर बाज़ार से नहीं उठता रात को 'मीर' घर गए शायद
شور بازار سے نہیں اٹھتا رات کو میرؔ گھر گئے شاید
شور بازار سے نہیں اٹھتا، رات کو 'میر' گھر گئے شاید۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ (بات/جذبہ) شور مچاتے بازار سے نہیں اٹھتا، شاید 'میر' کل رات گھر گئے ہوں گے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.