غزل
कुछ करो फ़िक्र मुझ दिवाने की
कुछ करो फ़िक्र मुझ दिवाने की
یہ غزل ایک دیوانے کی فکر (تکلیف/خیال) پر مبنی ہے، جو عشق کے گہرے اور شدید جذبات کو بیان کرتی ہے۔ شاعر محبوب کی یاد میں بے قرار ہے اور اس کے آنے کی ہر آہٹ میں ایک الگ ہی جوش محسوس کرتا ہے۔ یہ عشق کی گہرائی اور اس کے خوشی بھرے احساسات کو بیان کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
कुछ करो फ़िक्र मुझ दिवाने की
धूम है फिर बहार आने की
میرے اس دیوانے کی فکر تم کچھ کرو، کیونکہ بہار آنے کی دھوم پھر سے ہونے والی ہے۔
2
दिल का उस कुंज-ए-लब से दे है निशाँ
बात लगती तो है ठिकाने की
دل کے اُس کنجِ لب سے ایک نشاں ملتا ہے، جو کسی ٹھکانے یا وعدے جیسا لگتا ہے۔
3
वो जो फिरता है मुझ से दूर ही दूर
है ये तक़रीब जी के जाने की
وہ جو مجھ سے دور ہی دور پھرتا ہے، یہی قریب ہونے کا احساس ہے۔
4
तेज़ यूँ ही न थी शब आतिश-ए-शौक़
थी ख़बर गर्म उस के आने की
شاعِر کہہ رہا ہے کہ رات میں جنون کی آگ اتنی تیز نہیں تھی، بلکہ بس اُس کے آنے کی خبر ہی گرم تھی۔
5
ख़िज़्र उस ख़त्त-ए-सब्ज़ पर तो मुआ
धुन है अब अपने ज़हर खाने की
خضر، اُس خطے سبز پر تو مُعّا ہے، اب اپنے زہر کھانے کی دھن۔
6
दिल-ए-सद-चाक बाब-ए-जुल्फ़ है लेक
बाव सी बंध रही है शाने की
دل-اے-سد-چاک کا باب-ئے-زلف ہے لےک، گویا شانے کی باو سے بندھی ہے۔
7
किसू कम-ज़र्फ़ ने लगाई आह
तुझ से मय-ख़ाने के जलाने की
کِسُو کم-ذرف نے لگائی آہ، تجھ سے مے خانے کے جلانے کی
9
जो है सो पाएमाल-ए-ग़म है 'मीर'
चाल बे-डोल है ज़माने की
جو ہے سو پائےمالِ غم ہے 'میر'،
چال بے دَول ہے زمانے کی
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
