वर्ना ऐ शैख़-ए-शहर वाजिब थी
जाम-दारी शराब-ख़ाने की
“Otherwise, the Sheikh of the city was indispensable To the custodianship of the tavern's wine”
— میر تقی میر
معنی
ورنہ اے شیخِ شہر، واجب تھی جامداری شراب خانے کی
تشریح
یہ شعر معاشرتی رواج کی عکاسی کرتا ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ شہر کے بڑے آدمی کے لیے شراب خانے کی رونق کا حصہ بننا ایک لازمی کردار بن چکا تھا، ایک فرض بن چکا تھا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
