غزل

काश उठीं हम भी गुनहगारों के बीच

काश उठीं हम भी गुनहगारों के बीच
میر تقی میر· Ghazal· 10 shers

یہ غزل ایک گہرے عجزے اور ایک عجیب کشش کو ظاہر کرتی ہے، جہاں شاعر خود کو 'گنہگاروں کے بیچ' ہونے کی خواہش کرتا ہے۔ وہ ان لوگوں کے درمیان رہنا چاہتا ہے جو رحمت کے سزاوار ہیں۔ یہ نظم زندگی کی عدم استحکام اور نقاب پہننے کے فن پر سوال اٹھاتی ہے، جس میں شاعر کو گوشوں میں چھپی سچائی اور دکھاوے کے درمیان زندگی کے تضادات کو دیکھتا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
काश उठीं हम भी गुनहगारों के बीच हूँ जो रहमत के सज़ा-वारों के बीच
کاش اٹھیں ہم بھی گنہ گاروں کے بیچ ہوں جو رحمت کے سزاواروں کے بیچ
اس کا مطلب ہے، کہ کاش میں بھی گنہگاروں کے بیچ جاگ پاتی، کیونکہ میں تو رحمت کے سزا پانے والوں کے بیچ ہوں۔
2
जी सदा उन अब्रूओं ही में रहा की बसर हम-उम्र तलवारों के बीच
جی سدا ان ابروؤں ہی میں رہا کی بسر ہم عمر تلواروں کے بیچ
شاعر کہتا ہے کہ میری زندگی ہمیشہ ان بہادر دلوں میں گزری ہے، جو میرے ہم عمر ساتھیوں کی تلواروں کے بیچ ہیں۔
3
चश्म हो तो आईना-ख़ाना है दहर मुँह नज़र आता है दीवारों के बीच
چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر منہ نظر آتا ہے دیواروں کے بیچ
اگر چشمہ کوئی آئینہ خانہ ہے، تو یہ دہر دیواروں کے بیچ چہرے دکھاتا ہے۔
4
हैं 'अनासिर की ये सूरत-बाज़ियाँ शो'बदे क्या क्या हैं उन चारों के बीच
ہیں عناصر کی یہ صورت بازیاں شعبدے کیا کیا ہیں ان چاروں کے بیچ
اناصِر کی یہ صورت-بازیاں کیا ہیں؟ ان چاروں کے بیچ کے شوبدے کیا ہیں؟
5
जब से ले निकला है तो ये जिंस-ए-हुस्न पड़ गई है धूम बाज़ारों के बीच
جب سے لے نکلا ہے تو یہ جنس حسن پڑ گئی ہے دھوم بازاروں کے بیچ
جب سے نے یہ جنسِ حُسن نکالا ہے تو یہ بازاروں میں دھوم مچا رہا ہے۔
6
आशिक़ी-ओ-बे-कसी-ओ-रफ़तगी जी रहा कब ऐसे आज़ारों के बीच
عاشقی و بے کسی و رفتگی جی رہا کب ایسے آزاروں کے بیچ
عشقی، بے کسی اور رفاقت کی احساسات، یہ سب ایسے اذاروں کے بیچ زندگی میں کب جئے جا سکتے ہیں؟
7
जो सरिश्क उस माह बिन झमके है शब वो चमक काहे को है तारों के बीच
جو سرشک اس ماہ بن جھمکے ہے شب وہ چمک کاہے کو ہے تاروں کے بیچ
وہ چمک کس کی ہے جو اس مہینے کی مکمل روشنی کے بغیر نہیں چمکتی، اور ستاروں کے درمیان وہ کون سی چمک ہے جو نہیں جھلملاتی؟
8
उस के आतिशनाक रुख़्सारों बग़ैर लोटिए यूँ कब तक अँगारों के बीच
اس کے آتش ناک رخساروں بغیر لوٹیے یوں کب تک انگاروں کے بیچ
اس کے آتشناک رخساروں کے بغیر، تم انگاروں کے بیچ کب تک گھوم سکتی ہو؟
9
बैठना ग़ैरों में कब है नंग-ए-यार फूल गुल होते ही हैं ख़ारों के बीच
بیٹھنا غیروں میں کب ہے ننگ یار پھول گل ہوتے ہی ہیں خاروں کے بیچ
گٔروں میں بیٹھنا کب ہے ننگے یار؟ / پھول گل ہوتے ہی ہیں خاریوں کے بیچ۔ (معنی: میں کب غریبان کے درمیان ننگا ہو کر بیٹھ سکتا ہوں، جب کہ پھول اور کلییں ہمیشہ کانٹوں کے بیچ ہی ہوتی ہیں۔)
10
यारो मत उस का फ़रेब-ए-मेहर खाओ 'मीर' भी थे उस के ही यारों के बीच
یارو مت اس کا فریب مہر کھاؤ میرؔ بھی تھے اس کے ہی یاروں کے بیچ
یارو مت اُس کا فریبِ مےہر کھاؤ؛ 'میر' بھی تھے اُس کے ہی یاروں کے بیچ۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.