بیٹھنا غیروں میں کب ہے ننگ یار — میر تقی میر

بیٹھنا غیروں میں کب ہے ننگ یار پھول گل ہوتے ہی ہیں خاروں کے بیچ

“When is it for me to sit among strangers, exposed like a beloved? / Flowers and blossoms are always among thorns.”

— میر تقی میر

معنی

گٔروں میں بیٹھنا کب ہے ننگے یار؟ / پھول گل ہوتے ہی ہیں خاریوں کے بیچ۔ (معنی: میں کب غریبان کے درمیان ننگا ہو کر بیٹھ سکتا ہوں، جب کہ پھول اور کلییں ہمیشہ کانٹوں کے بیچ ہی ہوتی ہیں۔)

تشریح

یہ شعر زندگی کی حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ یہ پوچھتا ہے کہ کیا کسی کے سامنے خود کو بے پردہ کیا جا سکتا ہے؟ شاعر فرماتے ہیں کہ جہاں پھول کھلتے ہیں، وہیں کانٹے بھی موجود ہوتے ہیں—یعنی ہر خوبصورتی کے ساتھ کوئی خطرہ بھی ہوتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.