غزل

जब हम-कलाम हम से होता है पान खा कर

जब हम-कलाम हम से होता है पान खा कर
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل عشق اور فراق کے پیچیدہ جذبات کو پیش کرتی ہے، جہاں شاعر اپنے احساسات کو بیان کرنے کے لیے مختلف استعارات اور تجربات کا سہارا لیتا ہے۔ یہ عشق کی نشہ آور اور پراسرار دنیا میں کھو جانے کے تجربے کو بیان کرتی ہے، جس میں شاعر کو اپنے جذبات اور محبت کے گہرے معنی کا احساس ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر، غزل خود کو فدا کرنے اور عشق کی انتہا کا منظر پیش کرتی ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
जब हम-कलाम हम से होता है पान खा कर किस रंग से करे है बातें चबा चबा कर
جب ہم کلام ہم سے ہوتا ہے پان کھا کر کس رنگ سے کرے ہے باتیں چبا چبا کر
جب ہم سے پان کھا کر باتیں ہوتی ہیں، تو آپ کس رنگ سے چبا چبا کر بات کرتی ہیں۔
2
थी जुम्लातन लताफ़त आलम में जाँ के हम तो मिट्टी में अट गए हैं इस ख़ाक-दाँ में आ कर
تھی جملہ تن لطافت عالم میں جاں کے ہم تو مٹی میں اٹ گئے ہیں اس خاکداں میں آ کر
تھی جملاتن لطافت عالم میں جان کے ہم تو مٹی میں اٹ گئے ہیں اس خاک دان میں آ کر
3
सई ओ तलब बहुत की मतलब के तईं न पहुँचे नाचार अब जहाँ से बैठे हैं हाथ उठा कर
سعی و طلب بہت کی مطلب کے تئیں نہ پہنچے ناچار اب جہاں سے بیٹھے ہیں ہاتھ اٹھا کر
اے محبوب، تمہاری چاہت کا مطلب مجھ تک نہیں پہنچا، اب جہاں بیٹھا ہوں، نے ہاتھ اٹھا کر بے بسی کا اظہار کیا ہے۔
4
ग़ैरत ये थी कि आया उस से जो मैं ख़फ़ा हो मरते मुआ पे हरगिज़ ऊधर फिरा न जा कर
غیرت یہ تھی کہ آیا اس سے جو میں خفا ہو مرتے موا پہ ہرگز اودھر پھرا نہ جا کر
میری غیرت یہ تھی کہ میں اس شخص سے جو مجھے خفا کرتا تھا، کبھی بھی، یہاں تک کہ مرنے کے بعد بھی، اس سے دور نہیں بھٹکوں گا۔
5
क़ुदरत ख़ुदा की सब में ख़लउल-इज़ार आओ बैठो जो मुझ कने तो पर्दे में मुँह छुपा कर
قدرت خدا کی سب میں خلع العذار آؤ بیٹھو جو مجھ کنے تو پردے میں منہ چھپا کر
قُدرتِ خدا کی سب میں خلعُلِ اِزار ہے؛ آؤ بیٹھو جو مجھ کنے تو پردے میں منہ چھپا کر۔
6
अरमान है जिन्हों को वे अब करें मोहब्बत हम तो हुए पशीमाँ दिल के तईं लगा कर
ارمان ہے جنہوں کو وے اب کریں محبت ہم تو ہوئے پشیماں دل کے تئیں لگا کر
وہ ان لوگوں کے لیے آرزو رکھتے ہیں جن سے انہیں اب محبت کرنی ہے، مگر میں دل کی زिद لگا کر پشیمان ہوا۔
7
मैं 'मीर' तर्क ले कर दुनिया से हाथ उठाया दरवेश तू भी तो है हक़ में मिरे दुआ कर
میں میرؔ ترک لے کر دنیا سے ہاتھ اٹھایا درویش تو بھی تو ہے حق میں مرے دعا کر
میں، 'میر'، دلیل لے کر دنیا سے ہاتھ اٹھا چکا ہوں؛ درویش، تو بھی تو میرے حق میں ہے، لہٰذا میرے لیے دعا کر۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.