غزل

इश्क़ हमारे ख़याल पड़ा है ख़्वाब गई आराम गया

इश्क़ हमारे ख़याल पड़ा है ख़्वाब गई आराम गया
میر تقی میر· Ghazal· 8 shers

یہ غزل عشق کے شدید جذبات اور زندگی کی فانیت کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ عشق کی وجہ سے خیال، خواب اور آرام سب کھو گیا، جیسے صبح اور شام کے درمیان وقت کا گزرنا ناممکن ہو۔ یہ وجود کی عارضی اور غیر یقینی نوعیت پر غور کرتی ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
इश्क़ हमारे ख़याल पड़ा है ख़्वाब गई आराम गया जी का जाना ठहर रहा है सुब्ह गया या शाम गया
عشق ہمارے خیال پڑا ہے خواب گئی آرام گیا جی کا جانا ٹھہر رہا ہے صبح گیا یا شام گیا
محبت ہمارے خیال بن گئی ہے، ایک خواب جو آرام میں چلی گئی؛ جان کا جانا ٹھہر رہا ہے، چاہے وہ صبح ہو یا شام۔
2
इश्क़ किया सो दीन गया ईमान गया इस्लाम गया दिल ने ऐसा काम किया कुछ जिस से मैं नाकाम गया
عشق کیا سو دین گیا ایمان گیا اسلام گیا دل نے ایسا کام کیا کچھ جس سے میں ناکام گیا
عشق کرنے سے میرا دین چلا گیا، میرا ایمان چلا گیا، اسلام چلا گیا؛ / دل نے ایسا کام کیا کہ میں ناکام ہو گیا۔
3
किस किस अपनी कल को रोवे हिज्राँ में बेकल उस का ख़्वाब गई है ताब गई है चैन गया आराम गया
کس کس اپنی کل کو رووے ہجراں میں بے کل اس کا خواب گئی ہے تاب گئی ہے چین گیا آرام گیا
کس کس کے ویراں میں غمگین ہے وہ جو دور بھٹکتا ہوا ہے۔ خواب چلے گئے ہیں، جوش چلا گیا ہے، سکون چلا گیا ہے، اور آرام چلا گیا ہے۔
4
आया याँ से जाना ही तो जी का छुपाना क्या हासिल आज गया या कल जावेगा सुब्ह गया या शाम गया
آیا یاں سے جانا ہی تو جی کا چھپانا کیا حاصل آج گیا یا کل جاوے گا صبح گیا یا شام گیا
آیا یاں سے جانا ہی تو، دل کا چھپانا کیا حاصل؟ آج گیا یا کل جائے گا؛ صبح گئی یا شام گئی۔
5
हाए जवानी क्या क्या कहिए शोर सरों में रखते थे अब क्या है वो अहद गया वो मौसम वो हंगाम गया
ہائے جوانی کیا کیا کہیے شور سروں میں رکھتے تھے اب کیا ہے وہ عہد گیا وہ موسم وہ ہنگام گیا
اے جوانی، کیا کیا کہنا ہے جو سروں میں شور رکھا تھا؛ اب وہ عہد گیا، وہ موسم گیا، وہ ہنگامہ بھی گیا۔
6
गाली झिड़की ख़श्म-ओ-ख़ुशूनत ये तो सर-ए-दस्त अक्सर हैं लुत्फ़ गया एहसान गया इनआ'म गया इकराम गया
گالی جھڑکی خشم و خشونت یہ تو سر دست اکثر ہیں لطف گیا احسان گیا انعام گیا اکرام گیا
یہ گالی جیسی خوبصورتی، یہ کشم و خوشنعت، اکثر صرف دکھاوا ہوتے ہیں۔ لطف گیا، احسان گیا، انعامات گیا، اکرام گیا।
7
लिखना कहना तर्क हुआ था आपस में तो मुद्दत से अब जो क़रार किया है दिल से ख़त भी गया पैग़ाम गया
لکھنا کہنا ترک ہوا تھا آپس میں تو مدت سے اب جو قرار کیا ہے دل سے خط بھی گیا پیغام گیا
لکھنا، کہنا، بحث کرنا—یہ جو آپس میں بہت عرصے سے ہوا تھا، اب جو دل سے فیصلہ کیا ہے، اس سے نہ خط گیا اور نہ پیغام گیا۔
8
नाला-ए-मीर सवाद में हम तक दोशीं शब से नहीं आया शायद शहर से उस ज़ालिम के आशिक़ वो बदनाम गया
نالۂ میرؔ سواد میں ہم تک دوشیں شب سے نہیں آیا شاید شہر سے اس ظالم کے عاشق وہ بدنام گیا
میر کے نالے میں ایسا گناہ ہم نے کئی شبوں سے نہیں کیا ہوگا؛ شاید اس ظالم کے عاشق کو شہر سے بدنام ہونا پڑ گیا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.