हाए जवानी क्या क्या कहिए शोर सरों में रखते थे
अब क्या है वो अहद गया वो मौसम वो हंगाम गया
“Oh, youth, what stories to tell, kept in the tumult of minds; / Now that covenant is gone, that season, that uproar has passed.”
— میر تقی میر
معنی
اے جوانی، کیا کیا کہنا ہے جو سروں میں شور رکھا تھا؛ اب وہ عہد گیا، وہ موسم گیا، وہ ہنگامہ بھی گیا۔
تشریح
یہ شعر گزرے ہوئے وقت اور جوانی کی یادوں پر ایک گہرا افسوس ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ دل میں ایک وقت تھا جب ایک شور تھا.... ایک جوش تھا، مگر اب وہ وعدہ، وہ موسم، سب کچھ گزر چکا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
