غزل
हर ज़ी-हयात का है सबब जो हयात का
हर ज़ी-हयात का है सबब जो हयात का
یہ نظم بتاتی ہے کہ زندگی کا ہر پہلو، یہاں تک کہ زندگی کا وجود بھی، کسی نہ کسی سبب سے جڑا ہوا ہے۔ جس طرح کائنات کا نکلنا بھی کسی مقصد کے لیے ہوا ہے، اسی طرح فطرت کی ہر چیز، جیسے دن اور رات کا چکر یا پودے کا نکلنا، ایک خاص سبب پر منحصر ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
हर ज़ी-हयात का है सबब जो हयात का
निकले है जी ही उस के लिए काएनात का
ہر زندگی کا سبب وہ ہے جو زندگی کا ہے۔ اسی سے کائنات نکلی ہے۔
2
बिखरी है ज़ुल्फ़ उस रुख़-ए-आलम-फ़रोज़ पर
वर्ना बनाओ होवे न दिन और रात का
زُلف اس چمکتے ہوئے عالم کے چہرے پر بکھری ہے، ورنہ نہ دن ہو سکتا ہے اور نہ رات۔
3
दर-पर्दा वो ही मा'नी मुक़व्वम न हों अगर
सूरत न पकड़े काम फ़लक के सबात का
اگر پردہ اور نقاب ایک معنی نہ ہوں، تو نگاہ فلک کی ثبات کا منظر نہیں پکڑ پائے گی۔
4
हैं मुस्तहील ख़ाक से अज्ज़ा-ए-नव-ख़ताँ
क्या सहल है ज़मीं से निकलना नबात का
شایر کہتا ہے کہ مٹی سے ایک نئی حالت حاصل کرنا ناممکن ہے، اور زمین سے ایک پودے کا نکلنا کتنا مشکل ہے۔
5
मुस्तहलक उस के 'इश्क़ के जानें हैं क़दर-ए-मर्ग
ईसा-ओ-ख़िज़्र को है मज़ा कब वफ़ात का
اس کی محبت کے نشے میں ہی زندگی اور موت دونوں کی اہمیت ہے۔ عیسیٰ اور خضر کو موت کا مزہ کب آئے گا۔
6
अश्जार होवें ख़ामा-ओ-आब-ए-सियह-बेहार
लिखना न तो भी हो सके उस की सिफ़ात का
اشجار ہوں خما و آبِ سیاہ بہار، لکھنا نہ تو بھی ہو سکے اس کی صفات کا
7
उस के फ़रोग़-ए-हुस्न से झुमके है सब में नूर
शम-ए-हरम हो या कि दिया सोमनात का
اُس کے فروغے حُسن سے جھمکے ہے سب میں نور، شمِ حرم ہو یا کہ دیا سمنات کا
8
बिज़्ज़ात है जहाँ में वो मौजूद हर जगह
है दीद चश्म-ए-दिल के खुले ऐन ज़ात का
جہاں ہر جگہ وہ عزت موجود ہے، یہ دل کی آنکھ سے کھلے ذات کا دیدار ہے۔
9
हर सफ़्हे में है महव-ए-कलाम अपना दस जगह
मुसहफ़ को खोल देख टक अंदाज़ बात का
ہر صفحے میں ہے محبّتِ کلام اپنا دس جگہ، مصحف کو کھول دیکھ بات کا انداز۔
10
हम मुज़न्निबों में सिर्फ़ करम से है गुफ़्तुगू
मज़कूर ज़िक्र याँ नहीं सौम-ओ-सलात का
ہم شعراء میں صرف کرم سے بات کرتے ہیں، نہ کہ کسی کا ذکر یا روزے و صلاۃ کا۔
11
क्या 'मीर' तुझ को नामा-स्याही का फ़िक्र है
ख़त्म-ए-रुसुल सा शख़्स है ज़ामिन नजात का
کیا 'میر' کو اپنے نام کی سیاہی کی فکر ہے؟ یہ شخص تو نجات کا زمین (بنیاد) ہے، جو رسالت کے خاتمے جیسا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
