Sukhan AI
غزل

हर ज़ी-हयात का है सबब जो हयात का

हर ज़ी-हयात का है सबब जो हयात का
میر تقی میر· Ghazal· 11 shers

یہ نظم بتاتی ہے کہ زندگی کا ہر پہلو، یہاں تک کہ زندگی کا وجود بھی، کسی نہ کسی سبب سے جڑا ہوا ہے۔ جس طرح کائنات کا نکلنا بھی کسی مقصد کے لیے ہوا ہے، اسی طرح فطرت کی ہر چیز، جیسے دن اور رات کا چکر یا پودے کا نکلنا، ایک خاص سبب پر منحصر ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
2
बिखरी है ज़ुल्फ़ उस रुख़-ए-आलम-फ़रोज़ पर वर्ना बनाओ होवे न दिन और रात का
زُلف اس چمکتے ہوئے عالم کے چہرے پر بکھری ہے، ورنہ نہ دن ہو سکتا ہے اور نہ رات۔
3
दर-पर्दा वो ही मा'नी मुक़व्वम न हों अगर सूरत न पकड़े काम फ़लक के सबात का
اگر پردہ اور نقاب ایک معنی نہ ہوں، تو نگاہ فلک کی ثبات کا منظر نہیں پکڑ پائے گی۔
4
हैं मुस्तहील ख़ाक से अज्ज़ा-ए-नव-ख़ताँ क्या सहल है ज़मीं से निकलना नबात का
شایر کہتا ہے کہ مٹی سے ایک نئی حالت حاصل کرنا ناممکن ہے، اور زمین سے ایک پودے کا نکلنا کتنا مشکل ہے۔
5
मुस्तहलक उस के 'इश्क़ के जानें हैं क़दर-ए-मर्ग ईसा-ओ-ख़िज़्र को है मज़ा कब वफ़ात का
اس کی محبت کے نشے میں ہی زندگی اور موت دونوں کی اہمیت ہے۔ عیسیٰ اور خضر کو موت کا مزہ کب آئے گا۔
11
क्या 'मीर' तुझ को नामा-स्याही का फ़िक्र है ख़त्म-ए-रुसुल सा शख़्स है ज़ामिन नजात का
کیا 'میر' کو اپنے نام کی سیاہی کی فکر ہے؟ یہ شخص تو نجات کا زمین (بنیاد) ہے، جو رسالت کے خاتمے جیسا ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

हर ज़ी-हयात का है सबब जो हयात का | Sukhan AI