بکھری ہے زلف اس رخ عالم فروز پر — میر تقی میر
بکھری ہے زلف اس رخ عالم فروز پر
ورنہ بناؤ ہووے نہ دن اور رات کا
“The tresses are scattered upon that radiant face of the world, Otherwise, neither day nor night could exist.”
— میر تقی میر
معنی
زُلف اس چمکتے ہوئے عالم کے چہرے پر بکھری ہے، ورنہ نہ دن ہو سکتا ہے اور نہ رات۔
تشریح
یہ شعر حسنِ یار کی کائنات پر اثر کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ محبوب کی زلفوں کا سجاوٹ صرف ظاہری نہیں، بلکہ وہ وجود کو جاری رکھنے کی وجہ ہے۔ ورنہ نہ دن کا کوئی وجود ہوگا اور نہ ہی رات کا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
