Sukhan AI
غزل

गुज़र जान से और डर कुछ नहीं

गुज़र जान से और डर कुछ नहीं
میر تقی میر· Ghazal· 8 shers

یہ غزل محبت کے راستے پر یقین اور بے خوفی کا پیغام دیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ جان سے گزرنا اور ڈرنا اب کوئی بڑی بات نہیں، کیونکہ عشق میں کوئی خطرہ یا خوف نہیں ہوتا۔ یہ زندگی میں اٹوٹ یقین اور سر تسلیم خم کی کیفیت کو بیان کرتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
गुज़र जान से और डर कुछ नहीं रह-ए-इश्क़ में फिर ख़तर कुछ नहीं
جان کے گزرنے کے سوا اور کوئی ڈر نہیں ہے؛ رہِ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں۔
2
है अब काम दिल जिस पे मौक़ूफ़ तो वो नाला कि जिस में असर कुछ नहीं
اگر دل اب کسی کام پر منگنی ہے تو وہ نالے کی مانند ہے جس میں کوئی اثر نہیں ہے۔
3
हुआ माइल उस सर्व का दिल मिरा ब-जुज़ जौर जिस से समर कुछ नहीं
میرے دل کی طرف ہر جاندار کا دل کھنچا، ایک ایسی طاقت سے جو کسی طوفان سے زیادہ ہے۔
4
न कर अपने महवों का हरगिज़ सुराग़ गए गुज़रे बस अब ख़बर कुछ नहीं
اپنے محبوں کے کوئی نشان نہ ڈھونڈنا، کیونکہ اب تمہیں خبر نہیں کہ وہ کہاں گئے۔
5
तिरी हो चुकी ख़ुश्क मिज़्गाँ की सब लहू अब जिगर में मगर कुछ नहीं
وہ سرسبز بھویں جو کبھی تروتازہ تھیں، اب سوکھ چکی ہیں؛ سارا خون تو دل میں ہے، مگر کچھ بھی نہیں بچا۔
6
हया से नहीं पुश्त-ए-पा पर वो चश्म मिरा हाल मद्द-ए-नज़र कुछ नहीं
یہ آنکھیں حیا سے نہیں، بلکہ آپ کے نسب کی وقار سے بہتی ہیں۔ میری حالت تو آپ کے ایک نظر کے سامنے کچھ نہیں ہے۔
7
करूँ क्यूँके इंकार इश्क़ आह में ये रोना भला क्या है गर कुछ नहीं
شاعر پوچھتا ہے کہ وہ اپنی آہوں میں عشق کا انکار کیوں کرے، اور یہ رونا کیا کام کا ہے اگر کچھ بھی نہیں ہے۔
8
कमर उस की रश्क रग-ए-जाँ है 'मीर' ग़रज़ इस से बारीक-तर कुछ नहीं
اس کی کمر میری جان کی رشک ہے، میر۔ مجھ سے باریک تر کچھ نہیں ہو سکتا۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

गुज़र जान से और डर कुछ नहीं | Sukhan AI