غزل
गुज़र जान से और डर कुछ नहीं
गुज़र जान से और डर कुछ नहीं
یہ غزل محبت کے راستے پر یقین اور بے خوفی کا پیغام دیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ جان سے گزرنا اور ڈرنا اب کوئی بڑی بات نہیں، کیونکہ عشق میں کوئی خطرہ یا خوف نہیں ہوتا۔ یہ زندگی میں اٹوٹ یقین اور سر تسلیم خم کی کیفیت کو بیان کرتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
गुज़र जान से और डर कुछ नहीं
रह-ए-इश्क़ में फिर ख़तर कुछ नहीं
گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں
رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں
جان کے گزرنے کے سوا اور کوئی ڈر نہیں ہے؛ رہِ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں۔
2
है अब काम दिल जिस पे मौक़ूफ़ तो
वो नाला कि जिस में असर कुछ नहीं
ہے اب کام دل جس پہ موقوف تو
وہ نالہ کہ جس میں اثر کچھ نہیں
اگر دل اب کسی کام پر منگنی ہے تو وہ نالے کی مانند ہے جس میں کوئی اثر نہیں ہے۔
3
हुआ माइल उस सर्व का दिल मिरा
ब-जुज़ जौर जिस से समर कुछ नहीं
ہوا مائل اس سرو کا دل مرا
بجز جور جس سے ثمر کچھ نہیں
میرے دل کی طرف ہر جاندار کا دل کھنچا، ایک ایسی طاقت سے جو کسی طوفان سے زیادہ ہے۔
4
न कर अपने महवों का हरगिज़ सुराग़
गए गुज़रे बस अब ख़बर कुछ नहीं
نہ کر اپنے محووں کا ہرگز سراغ
گئے گزرے بس اب خبر کچھ نہیں
اپنے محبوں کے کوئی نشان نہ ڈھونڈنا، کیونکہ اب تمہیں خبر نہیں کہ وہ کہاں گئے۔
5
तिरी हो चुकी ख़ुश्क मिज़्गाँ की सब
लहू अब जिगर में मगर कुछ नहीं
تری ہو چکی خشک مژگاں کی سب
لہو اب جگر میں مگر کچھ نہیں
وہ سرسبز بھویں جو کبھی تروتازہ تھیں، اب سوکھ چکی ہیں؛ سارا خون تو دل میں ہے، مگر کچھ بھی نہیں بچا۔
6
हया से नहीं पुश्त-ए-पा पर वो चश्म
मिरा हाल मद्द-ए-नज़र कुछ नहीं
حیا سے نہیں پشت پا پر وہ چشم
مرا حال مد نظر کچھ نہیں
یہ آنکھیں حیا سے نہیں، بلکہ آپ کے نسب کی وقار سے بہتی ہیں۔ میری حالت تو آپ کے ایک نظر کے سامنے کچھ نہیں ہے۔
7
करूँ क्यूँके इंकार इश्क़ आह में
ये रोना भला क्या है गर कुछ नहीं
کروں کیونکے انکار عشق آہ میں
یہ رونا بھلا کیا ہے گر کچھ نہیں
شاعر پوچھتا ہے کہ وہ اپنی آہوں میں عشق کا انکار کیوں کرے، اور یہ رونا کیا کام کا ہے اگر کچھ بھی نہیں ہے۔
8
कमर उस की रश्क रग-ए-जाँ है 'मीर'
ग़रज़ इस से बारीक-तर कुछ नहीं
کمر اس کی رشک رگ جاں ہے میرؔ
غرض اس سے باریک تر کچھ نہیں
اس کی کمر میری جان کی رشک ہے، میر۔ مجھ سے باریک تر کچھ نہیں ہو سکتا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
