غزل
ग़ज़ल 'मीर' की कब पढ़ाई नहीं
ग़ज़ल 'मीर' की कब पढ़ाई नहीं
یہ غزل بتاتی ہے کہ شاعر کا حال بہت خراب ہے اور اسے اب کسی قسم کی آزادی کی امید نہیں ہے۔ وہ شکایت کرتا ہے کہ محبوب نے کبھی اس کے لیے کتابت نہیں کی، اور نہ ہی اس کے قفس میں خوشبودار گلستان سے دو پھول لائے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ग़ज़ल 'मीर' की कब पढ़ाई नहीं
कि हालत मुझे ग़श की आई नहीं
غزل 'میر' کی کب پڑھائی نہیں کہ حالت مجھے غش کی آئی نہیں۔ (مطلب: میں نے میر کی غزل کب پڑھی، کہ میری حالت میں ایسا نہیں آیا کہ مجھے نشہ محسوس ہو۔)
2
ज़बाँ से हमारी है सय्याद ख़ुश
हमें अब उमीद-ए-रिहाई नहीं
ہماری زبان سے سید کی خوشی ہے، مگر ہمیں اب آزادی کی کوئی امید نہیں ہے۔
3
किताबत गई कब कि उस शोख़ ने
बना उस की गड्डी उड़ाई नहीं
उस شرارتی نے کب اپنی لکھائی روکی، وہ اس کی خوبصورتی کا گچھا اڑانے نہیں دیا۔
4
नसीम आई मेरे क़फ़स में अबस
गुलिस्ताँ से दो फूल लाई नहीं
نصیم آ میرے قفس میں ابس۔ میں گلستان سے دو پھول نہ لایا۔
5
मिरी दिल-लगी उस के रू से ही है
गुल-ए-तर से कुछ आश्नाई नहीं
میرا دل-لگاؤ صرف اس کے رو سے ہے، اسے گلِ تر کے پیار سے کچھ علم نہیں۔
6
नविश्ते की ख़ूबी लिखी कब गई
किताबत भी एक अब तक आई नहीं
نَوَشتے کی خوبی لکھے کب گئی؟ کتابت بھی ایک اب تک آئی نہیں।
7
जुदा रहते बरसों हुए क्यूँकि ये
किनाया नहीं बे-अदाई नहीं
برسوں سے جدا رہنا اس لیے ہے کہ یہ کنارہ بے آدا نہیں۔
8
गिला हिज्र का सुन के कहने लगा
हमारे तुम्हारे जुदाई नहीं
گلہ ہجر کا سن کر وہ کہنے لگا کہ یہ ہماری غلطی نہیں ہے کہ ہم جدا ہوئے۔
9
सियह-तालई मेरी ज़ाहिर है अब
नहीं शब कि उस से लड़ाई नहीं
سیہ-تالئی میری اب ظاہر ہے، اور نہ رات سے کوئی لڑائی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
