Sukhan AI
غزل

ग़ज़ल 'मीर' की कब पढ़ाई नहीं

ग़ज़ल 'मीर' की कब पढ़ाई नहीं
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل بتاتی ہے کہ شاعر کا حال بہت خراب ہے اور اسے اب کسی قسم کی آزادی کی امید نہیں ہے۔ وہ شکایت کرتا ہے کہ محبوب نے کبھی اس کے لیے کتابت نہیں کی، اور نہ ہی اس کے قفس میں خوشبودار گلستان سے دو پھول لائے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ग़ज़ल 'मीर' की कब पढ़ाई नहीं कि हालत मुझे ग़श की आई नहीं
غزل 'میر' کی کب پڑھائی نہیں کہ حالت مجھے غش کی آئی نہیں۔ (مطلب: میں نے میر کی غزل کب پڑھی، کہ میری حالت میں ایسا نہیں آیا کہ مجھے نشہ محسوس ہو۔)
2
ज़बाँ से हमारी है सय्याद ख़ुश हमें अब उमीद-ए-रिहाई नहीं
ہماری زبان سے سید کی خوشی ہے، مگر ہمیں اب آزادی کی کوئی امید نہیں ہے۔
3
किताबत गई कब कि उस शोख़ ने बना उस की गड्डी उड़ाई नहीं
उस شرارتی نے کب اپنی لکھائی روکی، وہ اس کی خوبصورتی کا گچھا اڑانے نہیں دیا۔
5
मिरी दिल-लगी उस के रू से ही है गुल-ए-तर से कुछ आश्नाई नहीं
میرا دل-لگاؤ صرف اس کے رو سے ہے، اسے گلِ تر کے پیار سے کچھ علم نہیں۔
6
नविश्ते की ख़ूबी लिखी कब गई किताबत भी एक अब तक आई नहीं
نَوَشتے کی خوبی لکھے کب گئی؟ کتابت بھی ایک اب تک آئی نہیں।
8
गिला हिज्र का सुन के कहने लगा हमारे तुम्हारे जुदाई नहीं
گلہ ہجر کا سن کر وہ کہنے لگا کہ یہ ہماری غلطی نہیں ہے کہ ہم جدا ہوئے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

ग़ज़ल 'मीर' की कब पढ़ाई नहीं | Sukhan AI