غزل
गए जी से छूटे बुतों की जफ़ा से
गए जी से छूटे बुतों की जफ़ा से
یہ غزل اللہ سے دور ہو جانے کے بعد بتوں کی جفا سے نجات پانے کی خواہش کا اظہار کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ صرف خدا اسے بچائے، کیونکہ وہ اپنی خوبی پر بے خبر رہتا ہے۔ یہ زندگی کے بندھنوں اور وہموں سے آزاد ہونے کے لیے صرف خدا کی رحمت اور سچے توبہ کی ضرورت ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
गए जी से छूटे बुतों की जफ़ा से
यही बात हम चाहते थे ख़ुदा से
شاعر کا دل چاہتا ہے کہ وہ جی سے چھوٹے بتوں کی سختی سے بچ جائے اور یہ بات خدا سے کہے۔
2
वो अपनी ही ख़ूबी पे रहता है नाज़ाँ
मरो या जियो कोई उस की बला से
وہ اپنی ہی خوبیوں پر رہتا ہے، نا جان؛ مرے یا جئے، یہ کسی اور کی فکر نہیں۔
3
कोई हम से खुलते हैं बंद उस क़बा के
ये 'उक़्दे खुलेंगे किसू की दु'आ से
کوئی ہم سے کھلتے ہیں بند اُس قبا کے، یہ 'عُقدے کھلیں گے کسی کی دعا سے۔
4
पशेमान तौबा से होगा 'अदम में
कि ग़ाफ़िल चला शैख़ लुत्फ़-ए-हवा से
پشیمان توبا سے ہوگا 'عَدَم' میں سکون، مگر غافل شیخ ہوا کے لطف میں بہہ گیا۔
5
न रक्खी मिरी ख़ाक भी उस गली में
कुदूरत मुझे है निहायत सबा से
میرا مطلب ہے کہ میں نے اس گلی میں اپنی دھول بھی نہیں رکھی تھی، کیونکہ قدرت میرے لیے بہت ہی دلکش ہے۔
6
जिगर सू-ए-मिज़्गाँ खिंचा जाए है कुछ
मगर दीदा-ए-तर हैं लोहू के प्यासे
اگرچہ دل تڑپ کی ندی کی طرف کھنچا جاتا ہے، مگر آنکھیں آنسوؤں کے خون سے پیاسی ہیں۔
7
अगर चश्म है तो वही 'ऐन हक़ है
त'अस्सुब तुझे है 'अजब मा-सिवा से
اگر چشم ہے تو وہی عین حق ہے؛ تمہارا تعصب صرف ما سوا سے ہے۔
8
तबीब-ए-सुबुक-अक़्ल हरगिज़ न समझा
हुआ दर्द-ए-'इश्क़ आह दूना दवा से
توبِعِ سُبُکِ عقل ہرگز نہ سمجھا / دردِ عشق آہ دُنا دوا سے
9
टुक ऐ मुद्द'ई चश्म-ए-इंसाफ़ वा कर
कि बैठे हैं ये क़ाफ़िए किस अदा से
اے مدعی چشمِ انصاف وا کر کہ بیٹھے ہیں یہ قافیے کس ادا سے
10
न शिकवा शिकायत न हर्फ़-ओ-हिकायत
कहो 'मीर' जी आज क्यूँ हो ख़फ़ा से
نہ شکوہ شکایت ہے نہ حرف و حیقات، کہو 'میر' جی آج کیوں ہو خفا سے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
