غزل

गए जी से छूटे बुतों की जफ़ा से

गए जी से छूटे बुतों की जफ़ा से
میر تقی میر· Ghazal· 10 shers

یہ غزل اللہ سے دور ہو جانے کے بعد بتوں کی جفا سے نجات پانے کی خواہش کا اظہار کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ صرف خدا اسے بچائے، کیونکہ وہ اپنی خوبی پر بے خبر رہتا ہے۔ یہ زندگی کے بندھنوں اور وہموں سے آزاد ہونے کے لیے صرف خدا کی رحمت اور سچے توبہ کی ضرورت ہے۔

ویڈیو · کلاسک
ویڈیو دیکھیں →
نغمہ سنیں
رسم الخط
1
गए जी से छूटे बुतों की जफ़ा से यही बात हम चाहते थे ख़ुदा से
گئے جی سے چھوٹے بتوں کی جفا سے یہی بات ہم چاہتے تھے خدا سے
شاعر کا دل چاہتا ہے کہ وہ جی سے چھوٹے بتوں کی سختی سے بچ جائے اور یہ بات خدا سے کہے۔
2
वो अपनी ही ख़ूबी पे रहता है नाज़ाँ मरो या जियो कोई उस की बला से
وہ اپنی ہی خوبی پہ رہتا ہے نازاں مرو یا جیو کوئی اس کی بلا سے
وہ اپنی ہی خوبیوں پر رہتا ہے، نا جان؛ مرے یا جئے، یہ کسی اور کی فکر نہیں۔
3
कोई हम से खुलते हैं बंद उस क़बा के ये 'उक़्दे खुलेंगे किसू की दु'आ से
کوئی ہم سے کھلتے ہیں بند اس قبا کے یہ عقدے کھلیں گے کسو کی دعا سے
کوئی ہم سے کھلتے ہیں بند اُس قبا کے، یہ 'عُقدے کھلیں گے کسی کی دعا سے۔
4
पशेमान तौबा से होगा 'अदम में कि ग़ाफ़िल चला शैख़ लुत्फ़-ए-हवा से
پشیمان توبہ سے ہوگا عدم میں کہ غافل چلا شیخ لطف ہوا سے
پشیمان توبا سے ہوگا 'عَدَم' میں سکون، مگر غافل شیخ ہوا کے لطف میں بہہ گیا۔
5
न रक्खी मिरी ख़ाक भी उस गली में कुदूरत मुझे है निहायत सबा से
نہ رکھی مری خاک بھی اس گلی میں کدورت مجھے ہے نہایت صبا سے
میرا مطلب ہے کہ میں نے اس گلی میں اپنی دھول بھی نہیں رکھی تھی، کیونکہ قدرت میرے لیے بہت ہی دلکش ہے۔
6
जिगर सू-ए-मिज़्गाँ खिंचा जाए है कुछ मगर दीदा-ए-तर हैं लोहू के प्यासे
جگر سوئے مژگاں کھنچا جائے ہے کچھ مگر دیدۂ تر ہیں لوہو کے پیاسے
اگرچہ دل تڑپ کی ندی کی طرف کھنچا جاتا ہے، مگر آنکھیں آنسوؤں کے خون سے پیاسی ہیں۔
7
अगर चश्म है तो वही 'ऐन हक़ है त'अस्सुब तुझे है 'अजब मा-सिवा से
اگر چشم ہے تو وہی عین حق ہے تعصب تجھے ہے عجب ماسوا سے
اگر چشم ہے تو وہی عین حق ہے؛ تمہارا تعصب صرف ما سوا سے ہے۔
8
तबीब-ए-सुबुक-अक़्ल हरगिज़ न समझा हुआ दर्द-ए-'इश्क़ आह दूना दवा से
طبیب سبک عقل ہرگز نہ سمجھا ہوا درد عشق آہ دونا دوا سے
توبِعِ سُبُکِ عقل ہرگز نہ سمجھا / دردِ عشق آہ دُنا دوا سے
9
टुक ऐ मुद्द'ई चश्म-ए-इंसाफ़ वा कर कि बैठे हैं ये क़ाफ़िए किस अदा से
ٹک اے مدعی چشم انصاف وا کر کہ بیٹھے ہیں یہ قافیے کس ادا سے
اے مدعی چشمِ انصاف وا کر کہ بیٹھے ہیں یہ قافیے کس ادا سے
10
न शिकवा शिकायत न हर्फ़-ओ-हिकायत कहो 'मीर' जी आज क्यूँ हो ख़फ़ा से
نہ شکوہ شکایت نہ حرف و حکایت کہو میرؔ جی آج کیوں ہو خفا سے
نہ شکوہ شکایت ہے نہ حرف و حیقات، کہو 'میر' جی آج کیوں ہو خفا سے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

गए जी से छूटे बुतों की जफ़ा से | Sukhan AI