غزل

देख तो दिल कि जाँ से उठता है

देख तो दिल कि जाँ से उठता है
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل دل کی جان سے اٹھنے والے دھویں جیسے شور کے منبع کو بیان کرتی ہے۔ شاعر اس جلن کے سبب پر سوال اٹھاتا ہے، اور اسے گہرے جذبات کے عارضے کی نشانی قرار دیتا ہے۔ وہ سننے والے کو دل کے گھر سے بھٹکنے سے منع کرتا ہے، کیونکہ ایک ایسا مقام ہے جہاں سے شور آسمان کی طرح اٹھتا ہے۔

ویڈیو · کلاسک
ویڈیو دیکھیں →
نغمہ سنیں
رسم الخط
1
देख तो दिल कि जाँ से उठता है ये धुआँ सा कहाँ से उठता है
دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
دیکھ تو دل کی جان سے اٹھتا ہے، یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے معنی: جب یہ دھواں دل کی جان سے اٹھتا ہے، تو یہ کہاں سے آتا ہے؟
2
गोर किस दिलजले की है ये फ़लक शोला इक सुब्ह याँ से उठता है
گور کس دل جلے کی ہے یہ فلک شعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے
گور کس دلجلے کی ہے یہ فلک، شولا اک صبح یاں سے اٹھتا ہے۔ اس کا سادہ مطلب ہے کہ یہ آسمان کس دل کے غم کا ہے، اور ایک صبح سے شعلہ اٹھتا ہے۔
3
ख़ाना-ए-दिल से ज़ीनहार न जा कोई ऐसे मकाँ से उठता है
خانۂ دل سے زینہار نہ جا کوئی ایسے مکاں سے اٹھتا ہے
خانۂ دل سے زینہار نہ جا، کوئی ایسے مکان سے اٹھتا ہے۔
4
नाला सर खींचता है जब मेरा शोर इक आसमाँ से उठता है
نالہ سر کھینچتا ہے جب میرا شور اک آسماں سے اٹھتا ہے
جب میرا غم نالے کی طرح بہتا ہے، تو ایک شور آسمان سے اٹھتا ہے۔
5
लड़ती है उस की चश्म-ए-शोख़ जहाँ एक आशोब वाँ से उठता है
لڑتی ہے اس کی چشم شوخ جہاں ایک آشوب واں سے اٹھتا ہے
اس کی چشمیہ شوخ جہاں سے، ایک چھوٹا سا جھگڑا اٹھتا ہے۔
6
सुध ले घर की भी शोला-ए-आवाज़ दूद कुछ आशियाँ से उठता है
سدھ لے گھر کی بھی شعلۂ آواز دود کچھ آشیاں سے اٹھتا ہے
شاعر کہتا ہے کہ گھر کی آواز کی بھی شعلہ کا خیال رکھنا، کیونکہ ایک کچھ گھونسلے سے اٹھ رہا ہے۔
7
बैठने कौन दे है फिर उस को जो तिरे आस्ताँ से उठता है
بیٹھنے کون دے ہے پھر اس کو جو ترے آستاں سے اٹھتا ہے
بیٹھنے کون دے ہے پھر اس کو، جو تیرے آستانے سے اٹھتا ہے۔ اس کا لفظی مطلب ہے کہ کون اسے بیٹھے گا، جب وہ تمہارے دہلیز سے اٹھتا ہے۔
8
यूँ उठे आह उस गली से हम जैसे कोई जहाँ से उठता है
یوں اٹھے آہ اس گلی سے ہم جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے
یوں اٹھے آہ اُس گلی سے ہم، جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے۔
9
इश्क़ इक 'मीर' भारी पत्थर है कब ये तुझ ना-तवाँ से उठता है
عشق اک میرؔ بھاری پتھر ہے کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے
عشق ایک میئر بھاری پتھر ہے، یہ کب تیری نشہ آور حالت سے اٹھے گا؟
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.