غزل
छुटता ही नहीं हो जिसे आज़ार-ए-मोहब्बत
छुटता ही नहीं हो जिसे आज़ार-ए-मोहब्बत
یہ غزل محبت کے درد سے جُڑے ہوئے ایک جذباتی حال کو بیان کرتی ہے۔ شاعر بیان کرتا ہے کہ وہ محبوب سے اس طرح جُڑا ہوا ہے کہ اس قید سے آزاد ہونا ناممکن ہے، اور اس کے لیے موت ہی واحد راستہ ہے۔ یہ محبت ایک ایسی کشمکش ہے جس میں دنیا میں ہر خواہش میسر ہے، مگر سچا عاشق کہیں نہیں ملتا۔
نغمہ سنیں
1
छुटता ही नहीं हो जिसे आज़ार-ए-मोहब्बत
मायूस हूँ मैं भी कि हूँ बीमार-ए-मोहब्बत
چھٹتا ہی نہیں ہو جسے آزار محبت
مایوس ہوں میں بھی کہ ہوں بیمار محبت
وہ دردِ محبت جو مجھ سے نہیں جاتا، میں بھی مایوس ہوں، جیسے میں بھی محبت کی بیماری سے بیمار ہوں۔
2
इम्काँ नहीं जीते-जी हो इस क़ैद से आज़ाद
मर जाए तभी छूटे गिरफ़्तार-ए-मोहब्बत
امکاں نہیں جیتے جی ہو اس قید سے آزاد
مر جائے تبھی چھوٹے گرفتار محبت
جیتے جی اس قید سے آزاد ہونا ممکن نہیں؛ محبت کے قید سے صرف موت پر ہی چھٹکارا ملے گا۔
3
तक़्सीर न ख़ूबाँ की न जल्लाद का कुछ जुर्म
था दुश्मन-ए-जानी मिरा इक़रार-ए-मोहब्बत
تقصیر نہ خوباں کی نہ جلاد کا کچھ جرم
تھا دشمن جانی مرا اقرار محبت
نہ خُوباں کی کوئی خامی تھی نہ جلاد کا کوئی جرم؛ میرا دشمن-ए-جانی، میرا اقرار-ए-محبت۔
4
हर जिंस के ख़्वाहाँ मिले बाज़ार-ए-जहाँ में
लेकिन न मिला कोई ख़रीदार-ए-मोहब्बत
ہر جنس کے خواہاں ملے بازار جہاں میں
لیکن نہ ملا کوئی خریدار محبت
دنیا کے بازار میں ہر طرح کی خواہشیں ملیں، مگر محبت کے دل کے لیے کوئی خریدار نہیں ملا۔
5
इस राज़ को रख जी ही में ता जी बचे तेरा
ज़िन्हार जो करता हो तू इज़हार-ए-मोहब्बत
اس راز کو رکھ جی ہی میں تا جی بچے تیرا
زنہار جو کرتا ہو تو اظہار محبت
میرے محبوب، یہ راز اپنے دل میں رکھنا، اگر تم محبت کا اظہار کرنا چاہتے ہو۔
6
हर नक़्श-ए-क़दम पर तिरे सर बेचे हैं आशिक़
टुक सैर तो कर आज तू बाज़ार-ए-मोहब्बत
ہر نقش قدم پر ترے سر بیچے ہیں عاشق
ٹک سیر تو کر آج تو بازار محبت
ہر نقشِ قدم پر تیرے سر بیچے ہیں عاشق؛ آج تو سیر کر دے بازارِ محبت۔
7
कुछ मस्त हैं हम दीदा-ए-पुर-ख़ून-ए-जिगर से
आया यही है साग़र-ए-सरशार-ए-मोहब्बत
کچھ مست ہیں ہم دیدۂ پر خون جگر سے
آیا یہی ہے ساغر سرشار محبت
ہم کچھ مست ہیں جو شہر کے خون کو دیکھنے سے آیا ہے۔ یہی محبت کا سرشار سمندر ہے۔
8
बेकार न रह इश्क़ में तू रोने से हरगिज़
ये गिर्या ही है आब-ए-रुख़-ए-कार-ए-मोहब्बत
بیکار نہ رہ عشق میں تو رونے سے ہرگز
یہ گریہ ہی ہے آب رخ کار محبت
عشق میں رونے سے بے کار نہ رہ ہرگز، یہ گریہ ہی تو کارِ محبت کا آب ہے۔
9
मुझ सा ही हो मजनूँ भी ये कब माने है आक़िल
हर सर नहीं ऐ 'मीर' सज़ा-वार-ए-मोहब्बत
مجھ سا ہی ہو مجنوں بھی یہ کب مانے ہے عاقل
ہر سر نہیں اے میرؔ سزاوار محبت
مجھ سا ہی مجنوں بھی یہ کب مانے گا، اے عاقل۔ ہر سر نہیں اے 'میر'، سزا وارِ محبت۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
