“Neither the drawing was imperfect, nor was the executioner's deed wrong; my beloved enemy, my declaration of love.”
نہ خُوباں کی کوئی خامی تھی نہ جلاد کا کوئی جرم؛ میرا دشمن-ए-جانی، میرا اقرار-ए-محبت۔
تَقصیر نہ خُوباں کی نہ जल्لاّد کا کچھ جرم تھا دشمنِ جانی میرا اقرارِ محبت میر تقی میر یہاں کہہ رہے ہیں کہ محبت کا اقرار کرنا اپنے آپ میں ایک خطرے سے خالی کام ہے، بالکل کسی نقش یا جرم کی طرح۔ ان کا زاویہ نظر یہ ہے کہ سب سے بڑا 'جرم' یا چیلنج अक्सर बाहरी दुनिया की किसी घटना से नहीं, बल्कि हमारी अपनी भावनाओं से आता है। میر کے لیے، محبت کا اقرار ہی وہ منفرد، ناقابلِ گریز، اور انتہائی خطرناک 'جرم' ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
