غزل

बे-यार शहर दिल का वीरान हो रहा है

बे-यार शहर दिल का वीरान हो रहा है
میر تقی میر· Ghazal· 8 shers

یہ غزل ایک دل کے محبوب سے ہجر میں ویران ہونے کے دکھ اور درد کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جس طرح شہر ویران ہوتا جا رہا ہے، اسی طرح دل بھی خالی ہو رہا ہے۔ یہ منظر نامے، آنکھوں میں محبوب کا عکس، اور گلستان میں کھلنے والے پھول—ہر چیز ایک بے قرار سفر کا حصہ بن رہی ہے، جو تنہائی اور بے چینی سے بھرا ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
बे-यार शहर दिल का वीरान हो रहा है दिखलाई दे जहाँ तक मैदान हो रहा है
بے یار شہر دل کا ویران ہو رہا ہے دکھلائی دے جہاں تک میدان ہو رہا ہے
اے یار، دل کا شہر ویران ہوتا جا رہا ہے۔ دکھلائی دے جہاں تک میدان ہو رہا ہے۔
2
इस मंज़िल-ए-जहाँ के बाशिंदे रफ़तनी हैं हर इक के हाँ सफ़र का सामान हो रहा है
اس منزل جہاں کے باشندے رفتنی ہیں ہر اک کے ہاں سفر کا سامان ہو رہا ہے
اِس منزلِ جہاں کے باشندے بے قرار ہیں، اور ہر ایک کا سفر کا سامان ہو رہا ہے۔
3
अच्छा लगा है शायद आँखों में यार अपनी आईना देख कर कुछ हैरान हो रहा है
اچھا لگا ہے شاید آنکھوں میں یار اپنی آئینہ دیکھ کر کچھ حیران ہو رہا ہے
شاید آنکھوں میں اچھا لگا ہے یار اپنی، آئینہ دیکھ کر کچھ حیران ہو رہا ہے۔
4
गुल देख कर चमन में तुझ को खिला ही जा है या'नी हज़ार जी से क़ुर्बान हो रहा है
گل دیکھ کر چمن میں تجھ کو کھلا ہی جا ہے یعنی ہزار جی سے قربان ہو رہا ہے
گل دیکھ کر چمن میں تجھ کو کھلا ہی جا رہا ہے یا'نی ہزار جی سے قربان ہو رہا ہے۔
5
हाल-ए-ज़बून अपना पोशीदा कुछ न था तो सुनता न था कि ये सैद बे-जान हो रहा है
حال زبون اپنا پوشیدہ کچھ نہ تھا تو سنتا نہ تھا کہ یہ صید بے جان ہو رہا ہے
حالِ زباں کا اپنا پوشیدہ کچھ نہ تھا تو سنتا نہ تھا کہ یہ سید بے جان ہو رہا ہے۔
6
ज़ालिम इधर की सुध ले जूँ शम-ए-सुब्ह-गाही एक आध दम का आशिक़ मेहमान हो रहा है
ظالم ادھر کی سدھ لے جوں شمع صبح گاہی ایک آدھ دم کا عاشق مہمان ہو رہا ہے
ظالم! میں صبح کی روشنی میں اپنا ہوش کھو رہا ہوں، اور ایک عاشق کا مہمان بس تھوڑی دیر کے لیے ٹھہرا ہے۔
7
क़ुर्बां-गह-ए-मोहब्बत वो जा है जिस में हर सू दुश्वार जान देना आसान हो रहा है
قرباں گہ محبت وہ جا ہے جس میں ہر سو دشوار جان دینا آسان ہو رہا ہے
محبت کا وہ باغ ایسا ہے کہ ہر طرف جان گنوا دینا آسان ہو رہا ہے۔
8
हर शब गली में उस की रोते तो रहते हो तुम इक रोज़ 'मीर' साहब तूफ़ान हो रहा है
ہر شب گلی میں اس کی روتے تو رہتے ہو تم اک روز میرؔ صاحب طوفان ہو رہا ہے
ہر شب گلی میں اس کی روتے تو رہتے ہو تم، ایک روز 'میر' صاحب طوفان ہو رہا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.