غزل
अब जो इक हसरत-ए-जवानी है
अब जो इक हसरत-ए-जवानी है
یہ غزل جوانی کی حسرت اور گزرتے وقت کی یادوں سے بھری ہے۔ اس میں وقت کی تبدیلی اور زندگی کی فانیت کو دکھایا گیا ہے، جس میں دل کے گہرے، پوشیدہ غم بھی شامل ہیں۔ یہ ایک ایسی حالت کا بیان ہے جہاں انسان قید محسوس کرتا ہے، جبکہ اس کی روح باغات کی آزادی اور حسن کی چاہت رکھتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
अब जो इक हसरत-ए-जवानी है
उम्र-ए-रफ़्ता की ये निशानी है
اب جو اک حسرتِ جوانی ہے، عمرِ رَفتہ کی یہ نشانی ہے۔
2
रश्क-ए-यूसुफ़ है आह वक़्त-ए-अज़ीज़
'उम्र इक बार-ए-कारवानी है
رشکِ یوسف ہے آہ وقتِ عزیز، عمر اک بارِ کاروانی ہے۔
3
गिर्या हर वक़्त का नहीं बे-हेच
दिल में कोई ग़म-ए-निहानी है
اس کا سادہ مطلب ہے کہ چٹانیں ہر وقت پریشان نہیں ہوتی ہیں؛ بلکہ، دل میں کوئی چھپا ہوا غم ہے۔
4
हम क़फ़स-ज़ाद क़ैदी हैं वर्ना
ता चमन एक पर-फ़िशानी है
ہم قفس زاد قیدی ہیں، ورنہ یہ چمن تو ایک پر-فشانی ہے۔
5
उस की शमशीर तेज़ है हमदम
मर रहेंगे जो ज़िंदगानी है
اس کی شمشیر تیز ہے ہمدم، مر رہیں گے جو زندگانی ہے۔
6
ग़म-ओ-रंज-ओ-अलम निको याँ से
सब तुम्हारी ही मेहरबानी है
غم، رنج اور الم سے، یاں سے نہ رخصت ہونا؛ سب تمہاری ہی مہربانی ہے۔
7
ख़ाक थी मौजज़न जहाँ में और
हम को धोका ये था कि पानी है
جہاں میں دھول تھی اور ہمیں لگا کہ وہ پانی ہے۔
8
याँ हुए 'मीर' तुम बराबर ख़ाक
वाँ वही नाज़ ओ सरगिरानी है
اے میر، تم تو بس خاک کے برابر ہو، پھر بھی وہی نَز اور سرگرانی باقی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
