Sukhan AI
غزل

अब जो इक हसरत-ए-जवानी है

अब जो इक हसरत-ए-जवानी है
میر تقی میر· Ghazal· 8 shers

یہ غزل جوانی کی حسرت اور گزرتے وقت کی یادوں سے بھری ہے۔ اس میں وقت کی تبدیلی اور زندگی کی فانیت کو دکھایا گیا ہے، جس میں دل کے گہرے، پوشیدہ غم بھی شامل ہیں۔ یہ ایک ایسی حالت کا بیان ہے جہاں انسان قید محسوس کرتا ہے، جبکہ اس کی روح باغات کی آزادی اور حسن کی چاہت رکھتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
3
गिर्या हर वक़्त का नहीं बे-हेच दिल में कोई ग़म-ए-निहानी है
اس کا سادہ مطلب ہے کہ چٹانیں ہر وقت پریشان نہیں ہوتی ہیں؛ بلکہ، دل میں کوئی چھپا ہوا غم ہے۔
6
ग़म-ओ-रंज-ओ-अलम निको याँ से सब तुम्हारी ही मेहरबानी है
غم، رنج اور الم سے، یاں سے نہ رخصت ہونا؛ سب تمہاری ہی مہربانی ہے۔
8
याँ हुए 'मीर' तुम बराबर ख़ाक वाँ वही नाज़ ओ सरगिरानी है
اے میر، تم تو بس خاک کے برابر ہو، پھر بھی وہی نَز اور سرگرانی باقی ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

अब जो इक हसरत-ए-जवानी है | Sukhan AI