غزل

چہرہ پہ جو تیرے نظر کر گیا

چہرہ پہ جو تیرے نظر کر گیا

یہ غزل محبوب کے حسن کے جان لیوا اثرات اور بے رخی کے کرب کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ جس نے بھی محبوب کے رخ پر نگاہ ڈالی وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا، اور جس سے محبوب نے آنکھیں پھیر لیں وہ گرتے ہوئے آنسو کی طرح بے وقعت اور برباد ہو گیا۔

Source: Kulliyat-e-Hazrat Ruknuddin Ishq (poems only) · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
चेहरा पे जो तेरे नज़र कर गया जान से अपनी वो गुज़र कर गया
چہرہ پہ جو تیرے نظر کر گیا جان سے اپنی وہ گزر کر گیا
جس شخص نے بھی تمہارے چہرے پر نظر ڈالی، وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
2
जिस की तरफ़ से तेरी आँखें फिरें अश्क के मानिंद सफ़र कर गया
جس کی طرف سے تری آنکھیں پھریں اشک کے مانند سفر کر گیا
جس کی طرف سے تم نے اپنی نگاہیں پھیر لیں، وہ آنکھ سے ٹپکنے والے آنسو کی طرح رخصت ہو گیا۔
3
मुँह को देखा अपने वो ख़ुर्शीद-रू शाम-ए-ग़रीबाँ को सहर कर गया
منہ کو دیکھا اپنے وہ خورشید رو شام غریباں کو سحر کر گیا
اس سورج جیسے چہرے والے محبوب نے اپنے چہرے کو دیکھا اور بے کسوں کی اداس شام کو صبح کے اجالے میں بدل دیا۔
4
उस को निकाले कोई किस तौर से तीर-ए-मिज़ा सीने में घर कर गया
اس کو نکالے کوئی کس طور سے تیر مژہ سینے میں گھر کر گیا
کوئی اسے کس طرح باہر نکالے؟ محبوب کی پلکوں کا تیر سینے میں اتر کر اپنا گھر بنا چکا ہے۔
5
रुख़्सत-ए-मौऊद थी हिचकी न थी चलते हुए दम ये ख़बर कर गया
رخصت موعود تھی ہچکی نہ تھی چلتے ہوئے دم یہ خبر کر گیا
وہ محض ایک ہچکی نہیں تھی بلکہ طے شدہ رخصت تھی، اور رخصت ہوتی ہوئی آخری سانس نے جاتے ہوئے یہی خبر دے دی۔
6
जो कोई बैठा तेरे कूचे में आ उठ न सका यारो वो मर कर गया
جو کوئی بیٹھا ترے کوچے میں آ اُٹھ نہ سکا یارو وہ مر کر گیا
اے دوستو! جو کوئی بھی تمہاری گلی میں آ کر بیٹھ گیا وہ پھر وہاں سے کبھی نہ اٹھ سکا اور مرنے کے بعد ہی رخصت ہوا۔
7
जिस की नज़र इश्क़ के ऊपर पड़ी चश्म के तईं अपनी वो तर कर गया
جس کی نظر عشق کے اوپر پڑی چشم کے تئیں اپنی وہ تر کر گیا
جس کسی کی نظر بھی عشق پر پڑی، اس نے اپنی آنکھیں آنسوؤں سے تر کر لیں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

چہرہ پہ جو تیرے نظر کر گیا | Sukhan AI