“Whoever came and sat within your street / Could never rise again, my friends—he only left in death.”
اے دوستو! جو کوئی بھی تمہاری گلی میں آ کر بیٹھ گیا وہ پھر وہاں سے کبھی نہ اٹھ سکا اور مرنے کے بعد ہی رخصت ہوا۔
اردو شاعری میں محبوب کی گلی محض کوئی راستہ نہیں، بلکہ عشق کی ایسی آخری منزل ہے جہاں قدم رکھنے کے بعد واپسی کا کوئی تصور باقی نہیں رہتا۔ شاعر اپنے یاروں سے بے ساختہ کہتا ہے کہ جو اس چوکھٹ پر ایک بار بیٹھ گیا، وہ جیتے جی کبھی واپس نہ لوٹ سکا اور اس گلی سے صرف اس کا جنازہ ہی اٹھا۔ یہ شعر عشق کے اس مکمل سرنڈر کو پیش کرتا ہے جہاں محبوب کی دہلیز پر جان نثار کرنا ہی عاشق کی معراج بن جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
