منہ کو دیکھا اپنے وہ خورشید رو شام غریباں کو سحر کر گیا

“That sun-faced beauty glanced upon their own radiant face, and turned the desolate dusk of the forlorn into morning's grace.”

— خواجہ رکن الدین عشق
معنی

اس سورج جیسے چہرے والے محبوب نے اپنے چہرے کو دیکھا اور بے کسوں کی اداس شام کو صبح کے اجالے میں بدل دیا۔

تشریح

اس شعر میں محبوب کے حسن کو 'خورشید رو' یعنی سورج جیسا تابناک اور پرنور کہا گیا ہے۔ 'شامِ غریباں' دکھ، تنہائی اور اندھیروں کی علامت ہے جہاں بظاہر روشنی کی کوئی کرن نہیں بچتی۔ شاعر کہتا ہے کہ محبوب کے اس روشن چہرے کے جلوے نے غم کے گہرے ترین اندھیروں کو مٹا کر ایک پرامید اور اجلی صبح میں بدل دیا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.