“By what means could anyone ever draw it out? The arrow of her lashes has made a home within my chest.”
کوئی اسے کس طرح باہر نکالے؟ محبوب کی پلکوں کا تیر سینے میں اتر کر اپنا گھر بنا چکا ہے۔
اردو شاعری میں محبوب کی پلکوں کو اکثر تیر سے تشبیہ دی جاتی ہے، لیکن شاعر نے یہاں اس استعارے کو نہایت دلکش اور پائیدار انداز بخشا ہے۔ وہ تیر دل کو صرف زخمی کر کے نہیں رکا، بلکہ سینے میں مستقل طور پر اپنا گھر بنا کر بیٹھ گیا ہے۔ اب اسے نکالنا بھلا کس طرح ممکن ہو، کیونکہ محبوب کی بخشی ہوئی یہ چوٹ اب عاشق کے وجود کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
