غزل
کبیر سنگرہ 31-40
کبیر سنگرہ 31-40
کبیر سنگرہ 31-40 کے یہ اشعار گہرے زندگی کے سبق پیش کرتے ہیں، جس میں سخاوت، انسانی جسم کی فانی نوعیت، اور الفاظ کی طاقت پر زور دیا گیا ہے۔ کبیر مہربانی اور دانشمندی سے بات کرنے اور اپنی حکمت صرف انہی لوگوں کے ساتھ بانٹنے کا مشورہ دیتے ہیں جو اس کی صحیح معنوں میں قدر کر سکیں۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
दान दिए धन ना घटे , नदी ने घटे नीर। अपनी आँखों देख लो , यों क्या कहे कबीर॥ 32॥
صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا، اور دریا کا پانی بھی نہیں گھٹتا۔ کبیر کہتے ہیں کہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لو، تم کیا کہہ رہے ہو۔
2
दस द्वारे का पिंजरा , तामे पंछी का कौन। रहे को अचरज है , गए अचम्भा कौन॥ 33॥
دس دروازوں کا پنجرہ، کس پرندے کا ہے؟ رہ جانا عجب ہے، جا جانا چمبا۔
3
ऐसी वाणी बोलेए , मन का आपा खोय। औरन को शीतल करे , आपहु शीतल होय॥ 34॥
ایسی بات کہنی چاہیے، جس میں غرور نہ ہو۔ ایسی بات دوسروں کو سکون پہنچاتی ہے اور خود کو بھی ٹھنڈک دیتی ہے۔
4
हीरा वहाँ न खोलिये , जहाँ कुंजड़ों की हाट। बांधो चुप की पोटरी , लागहु अपनी बाट॥ 35॥
شاعر کہہ رہے ہیں کہ ایسی جگہ اپنا دل نہ کھولیں جہاں نادانوں یا عام لوگوں کی بستی ہو۔ خاموشی سے رہنا اور اپنے راستے پر توجہ دینا ہی بہترین ہے۔
5
कुटिल वचन सबसे बुरा , जारि कर तन हार। साधु वचन जल रूप , बरसे अमृत धार॥ 36॥
کُٹیل کلام سب سے برا ہوتا ہے، جو جسم کو گرائے دیتا ہے۔ اس کے برعکس، صوفی کے کلام پانی کی شکل میں نَےر کی دھار برساتے ہیں۔
6
जग में बैरी कोई नहीं , जो मन शीतल होय। यह आपा तो ड़ाल दे , दया करे सब कोय॥ 37॥
شاعر کہہ رہے ہیں کہ دنیا میں کوئی دشمن نہیں ہوتا، جو دل سے ٹھنڈا ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ غرور (عطا) اتار پھینکو، تو سب لوگ رحم کریں گے۔
7
मैं रोऊँ जब जगत को , मोको रोवे न होय। मोको रोबे सोचना , जो शब्द बोय की होय॥ 38॥
جب میں دنیا کے لیے روؤں، تو دنیا کو میرے لیے نہیں رونا چاہیے۔ وہ الفاظ جو میرے غم کی بات کریں، وہ نہیں بولے جانے چاہئیں۔
8
सोवा साधु जगाइए , करे नाम का जाप। यह तीनों सोते भले , साकित सिंह और साँप॥ 39॥
اے साधو، جاگو اور نام کا जाप کرو۔ یہ تین سوئے ہوئے ہیں—جہل، مالدار اور سانپ۔
9
अवगुन कहूँ शराब का , आपा अहमक साथ। मानुष से पशुआ करे दाय , गाँठ से खात॥ 40॥
شاعِر کہتے ہیں کہ جو عیب شراب کا بیان کیا ہے، وہ دراصل آپے (غرور) کا ہے۔ یہ آپہ انسان کو جانور جیسا برتاؤ کرواتا ہے اور گُتھی سے کھا جاتا ہے۔
10
बाजीगर का बांदरा , ऐसा जीव मन के साथ। नाना नाच दिखाय कर , राखे अपने साथ॥ 41॥
یہ ایک ایسا جاندار ہے جو دل کے ساتھ رہتا ہے، جیسے جادوگر کا بندر۔ یہ مختلف ناچ دکھا کر ہمیشہ ہمارے قریب رہتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
