“The flaw I speak of is that of wine, the ego with the face. It makes man act like an animal, and eats from the knot.”
شاعِر کہتے ہیں کہ جو عیب شراب کا بیان کیا ہے، وہ دراصل آپے (غرور) کا ہے۔ یہ آپہ انسان کو جانور جیسا برتاؤ کرواتا ہے اور گُتھی سے کھا جاتا ہے۔
یہ کلام کबीर का गहरा व्यंग्य है। یہاں شراب صرف مادہ نہیں، بلکہ وہ غرور (اپا) ہے جو انسان کے عقل کو دھندلا کر دیتا ہے۔ یہ غرور ہی انسان کو جانور جیسا برتاؤ کرنے پر مجبور کرتا ہے، اور ساتھ ہی زندگی کی مضبوطی (گھاٹ) سے بھی اس کا نچوڑ کھا جاتا ہے۔ کबीर बताते हैं कि यह आंतरिक दोष ही हमें सही راستے سے بہکا دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
