Sukhan AI
غزل

کبیر 61-70

کبیر 61-70
کبیر· Ghazal· 10 shers

کبیر کے ان اشعار میں عشق اور سمرن کے گہرے معنی کو سمجھایا گیا ہے۔ سچا عشق نہ خریدا جا سکتا ہے اور نہ ہی بیچا، یہ صرف مکمل قربانی اور بے لوثی کا متقاضی ہے۔ اسی طرح، خدا کا ذکر بھی گہرے اندرونی دھیان اور بیرونی بھٹکاو سے مکمل دوری چاہتا ہے، جس سے زندگی کی آخری سانس تک اٹوٹ تعلق برقرار رہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
प्रेम न बड़ी ऊपजै , प्रेम न हाट बिकाय। राजा-प्रजा जोहि रुचें , शीश देई ले जाय॥ 64॥
پریم نہ بڑی اُپجے، پریم نہ ہاٹ بکای۔ راجا-پراجا جوہی رُچیں، شِش دےئی لے جائے॥ ٦٤॥ اس کا سادہ مطلب ہے کہ محبت نہ تو آسانی سے پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی بازار میں فروخت ہوتی ہے۔ اگر کوئی بادشاہ یا عام آدمی اسے چاہتا ہے، تو اسے اپنا سر (جان) دے کر لینا پڑتا ہے۔
2
प्रेम प्याला जो पिये , शीश दक्षिणा देय। लोभी शीश न दे सके , नाम प्रेम का लेय॥ 65॥
جو عشق کا پیالہ پیتا ہے، وہ اپنا سر نذر کرتا ہے۔ لالچی شخص، عشق کا نام لے کر بھی اپنا سر نہیں دے سکتا۔
3
सुमिरन में मन लाइए , जैसे नाद कुरंग। कहैं कबीर बिसरे नहीं , प्रान तजे तेहि संग॥ 66॥
ذکر میں دل کو لاؤ، جیسے بانسری کی آواز میں۔ شاعر کبیر کہتے ہیں، اسے مت بھولنا، کیونکہ جسم چھوڑنے کے بعد بھی اسی کے ساتھ رہنا۔
4
सुमरित सुरत जगाय कर , मुख के कछु न बोल। बाहर का पट बन्द कर , अन्दर का पट खोल॥ 67॥
یاد کردہ صورت کو ہاتھوں سے جگانا، مگر ہونٹوں سے کچھ نہ کہنا۔ باہر کا پردہ بند کرنا اور اندر کا پردہ کھول دینا۔
5
छीर रूप सतनाम है , नीर रूप व्यवहार। हंस रूप कोई साधु है , सत का छाननहार॥ 68॥
چھیرے روپ ستنام ہے، نِیر روپ وِہویور۔ ہنس روپ کوئی سادھو ہے، سَت کا چھاننہار۔
6
ज्यों तिल मांही तेल है , ज्यों चकमक में आग। तेरा सांई तुझमें , बस जाग सके तो जाग॥ 69॥
جیسے تِل میں مہّتہ تیل کی ہے، اور چکمک میں آگ کی۔ تیرا سامِی (خود) تجھ میں ہے؛ اگر تو جاگ سکے تو جاگ۔
7
जा करण जग ढ़ूँढ़िया , सो तो घट ही मांहि। परदा दिया भरम का , ताते सूझे नाहिं॥ 70॥
جو کچھ بھی دنیا میں تلاش کیا جائے، وہ حقیقت میں دل میں ہی ہوتا ہے۔ مگر وہم کے پردے کی وجہ سے اسے دیکھا نہیں جا سکتا۔
8
जबही नाम हिरदे घरा , भया पाप का नाश। मानो चिंगरी आग की , परी पुरानी घास॥ 71॥
جب بھی نام دل میں گھرا، بہا گناپ کا নাশ۔ مانو چنگری آگ کی، پری پرانی گھاس۔
10
आहार करे मन भावता , इंदी किए स्वाद। नाक तलक पूरन भरे , तो का कहिए प्रसाद॥ 73॥
دل لطف و لذت چاہتا ہے، ذائقے کا خواہاں ہے۔ اگر ناک خوشبو سے بھر جائے، تو قدرت کے احسان کا کیا کہنا۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

کبیر 61-70 | Sukhan AI