“As oil is to sesame seeds, as fire is to flint. Your divine self is within you; if only you could awaken to it, then awaken.”
جیسے تِل میں مہّتہ تیل کی ہے، اور چکمک میں آگ کی۔ تیرا سامِی (خود) تجھ میں ہے؛ اگر تو جاگ سکے تو جاگ۔
یہ شعر زندگی کے گہرے راز کی عکاسی کرتا ہے۔ तिल میں تیل اور چنگکی میں آگ، یہ تشبیہات بتاتی ہیں کہ الٰہی طاقت ہمارے اندر ہی موجود ہے۔ Kabir کا پیغام بہت ذاتی ہے: آپ کا اپنا 'سانی' (دیو ہستی) آپ کے اندر ہی ہے۔ مقصد باہر سے کوئی چیز تلاش کرنا نہیں، بلکہ اس شاندار حقیقت کا بیدار ہونا ہے جو ہمیشہ سے آپ کے وجود کا حصہ رہی ہے۔ یہ ایک اندرونی بیداری کا پیغام ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
