आहार करे मन भावता , इंदी किए स्वाद। नाक तलक पूरन भरे , तो का कहिए प्रसाद॥ 73॥
“The mind craves enjoyment, desiring taste; If the nose is filled with fragrance, what can be said of grace?”
— کبیر
معنی
دل لطف و لذت چاہتا ہے، ذائقے کا خواہاں ہے۔ اگر ناک خوشبو سے بھر جائے، تو قدرت کے احسان کا کیا کہنا۔
تشریح
یہ شعر دل کی مادی خواہشات اور روحانی تجربے کے درمیان ایک خوبصورت فرق بیان کرتا ہے۔ شبیر کہہ رہے ہیں کہ ہمارا دل ہمیشہ ذائقہ اور لطف کی طلب میں رہتا ہے۔ لیکن اگر ناک میں الٰہی خوشبو بھر جائے، تو دنیاوی 'عطا' کی کیا حیثیت ہو گی۔ یہ اشارہ ہے کہ حقیقی سکون جسمانی لذتوں میں نہیں، بلکہ اندرونی الہامی تجربے میں پایا جاتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev70 / 10
