“The mind craves enjoyment, desiring taste; If the nose is filled with fragrance, what can be said of grace?”
دل لطف و لذت چاہتا ہے، ذائقے کا خواہاں ہے۔ اگر ناک خوشبو سے بھر جائے، تو قدرت کے احسان کا کیا کہنا۔
یہ شعر دل کی مادی خواہشات اور روحانی تجربے کے درمیان ایک خوبصورت فرق بیان کرتا ہے۔ شبیر کہہ رہے ہیں کہ ہمارا دل ہمیشہ ذائقہ اور لطف کی طلب میں رہتا ہے۔ لیکن اگر ناک میں الٰہی خوشبو بھر جائے، تو دنیاوی 'عطا' کی کیا حیثیت ہو گی۔ یہ اشارہ ہے کہ حقیقی سکون جسمانی لذتوں میں نہیں، بلکہ اندرونی الہامی تجربے میں پایا جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
