غزل
کبیر 481-490
کبیر 481-490
کبیر کے یہ دوہے نادان اور لالچی گروؤں اور ان کے اندھے اور حریص شاگردوں کے خطرات کو اجاگر کرتے ہیں۔ وہ خبردار کرتے ہیں کہ ایسا گرو-شاگرد رشتہ دونوں کو روحانی تباہی کی طرف لے جاتا ہے، گویا دونوں اندھے ایک دوسرے کو کنویں میں دھکیل رہے ہوں یا پتھر کی کشتی میں سوار ہوں۔ یہ اشعار دنیاوی زندگی کے چکر سے نجات کے لیے سچے سدگرو (رہبر) کی پہچان کی اہمیت پر زور دیتے ہیں، نہ کہ صرف جسمانی رہبر کی پیروی پر۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
जाका गुरु है आँधरा , चेला खरा निरन्ध। अन्धे को अन्धा मिला , पड़ा काल के फन्द॥ 484॥
جس کا گرو اندھیرا ہے، شاگرد سدا باقی ہے۔ اندھوں کو اندھا ملا، اور وہ وقت کے جال میں پھنس گیا۔
2
गुरु लोभ शिष लालची , दोनों खेले दाँव। दोनों बूड़े बापुरे , चढ़ि पाथर की नाँव॥ 485॥
استاد اور لالچی شاگرد نے دونوں داؤ کھیلے۔ دونوں بوڑھے شخص پتھر کی کشتی میں سوار ہو گئے۔
3
आगे अंधा कूप में , दूजे लिया बुलाय। दोनों बूडछे बापुरे , निकसे कौन उपाय॥ 486॥
ایک اندھے کنویں میں ہے، اور دوسرا اسے پکار رہا ہے۔ دونوں گہرے گڑھے میں ہیں، کون راستہ نکال سکتا ہے؟
4
गुरु किया है देह का , सतगुरु चीन्हा नाहिं। भवसागर के जाल में , फिर फिर गोता खाहि॥ 487॥
جسم تو گرو نے دیا ہے، مگر سچے گرو کی پہچان نہیں ہے۔ انسان دنیا کے جال میں بار بار ڈوبتا رہتا ہے۔
5
पूरा सतगुरु न मिला , सुनी अधूरी सीख। स्वाँग यती का पहिनि के , घर घर माँगी भीख॥ 488॥
پورا سَتگرو نہ ملا، صرف ادھوری سِکھ ملی۔ سادھو-یتی کے لباس پہنے، ہر گھر سے بھیک مانگی۔
6
कबीर गुरु है घाट का , हाँटू बैठा चेल। मूड़ मुड़ाया साँझ कूँ गुरु सबेरे ठेल॥ 489॥
کبیر کہتے ہیں کہ گڑھ (نادی کا کنارہ) ہی گرو ہے، اور آدمی کنارے پر بیٹھا ہے۔ گرو نے اسے موڑ دیا، اور شام کو وہ روانہ ہو گیا۔
7
गुरु-गुरु में भेद है , गुरु-गुरु में भाव। सोइ गुरु नित बन्दिये , शब्द बतावे दाव॥ 490॥
گورو گورو میں بھی فرق ہے، اور گورو گورو میں جذبہ بھی ہے۔ اے بندے، جو کلام بتاتا ہے، ایسا گورو ہمیشہ قریب رہتا ہے۔
8
जो गुरु ते भ्रम न मिटे , भ्रान्ति न जिसका जाय। सो गुरु झूठा जानिये , त्यागत देर न लाय॥ 491॥
اگر کسی استاد (گرو) کی وجہ سے وہ भ्रम دور نہ ہو اور وہ غلط فہمی بھی ختم نہ ہو، تو اس استاد کو جھوٹا سمجھو؛ اس سے نجات پانے میں کوئی تاخیر نہیں ہوگی.
9
झूठे गुरु के पक्ष की , तजत न कीजै वार। द्वार न पावै शब्द का , भटके बारम्बार॥ 492॥
جھوٹے گرو کے ساتھ کھڑے ہونے سے گریز کرو، کیونکہ جو شخص بار بار بھٹکتا ہے وہ کبھی بھی کلام کے دروازے تک نہیں پہنچ پاتا۔
10
सद्गुरु ऐसा कीजिये , लोभ मोह भ्रम नाहिं। दरिया सो न्यारा रहे , दीसे दरिया माहि॥ 493॥
یہ شعر سچے گرو سے یہ التجا ہے کہ لالچ، محبت اور وہم کو ختم کیا جائے۔ یہ دریا کی مثال دیتا ہے، جو اپنے آپ میں الگ اور منفرد رہتا ہے، مگر وہ خود ہی دوسروں کو دیتا رہتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
