कबीर गुरु है घाट का , हाँटू बैठा चेल। मूड़ मुड़ाया साँझ कूँ गुरु सबेरे ठेल॥ 489॥
“The Ghat is the Guru, and the man sits on the bank. The Guru made him turn, and at dusk, he departed.”
— کبیر
معنی
کبیر کہتے ہیں کہ گڑھ (نادی کا کنارہ) ہی گرو ہے، اور آدمی کنارے پر بیٹھا ہے۔ گرو نے اسے موڑ دیا، اور شام کو وہ روانہ ہو گیا۔
تشریح
کبیر کہتے ہیں کہ سچا پیر کوئی شخص نہیں، بلکہ زندگی کا تجربہ اور بہاؤ ہے، جو ندی کے کنارے (घाट) کی طرح ہے۔ یہ 'घाट' خود علم کی علامت ہے، جو ہمیں زندگی کے اتار چڑھاؤ سے سکھاتا ہے۔ یہ شعر و شاعری ہمیں بتاتے ہیں کہ روحانی رہنمائی ایک عمل ہے؛ یہ ہمیں وقت کے ساتھ موڑنا سکھاتی ہے، اور جب وقت پورا ہو جاتا ہے، تو ہمیں خود کو آگے بڑھانا پڑتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev86 / 10
